کاروبار اور معیشت

نومبر میں کرنٹ اکاؤنٹ 100 ملین ڈالر سرپلس ہوگیا

  • سرپلس اکتوبر 2025 میں 291 ملین ڈالر کے خسارے، نومبر 2024 میں 684 ملین ڈالر کے سرپلس کے بعد سامنے آیا
شائع December 17, 2025 اپ ڈیٹ December 17, 2025 12:55pm

پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ نومبر 2025 میں 100 ملین ڈالر سرپلس ہوگیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ نومبر 2025 میں 100 ملین ڈالر سرپلس پر رہا۔

یہ سرپلس اکتوبر 2025 میں ریکارڈ کیے گئے 291 ملین ڈالر کے خسارے کے بعد سامنے آیا جو ابتدا میں 112 ملین ڈالر بتایا گیا تھا اور نومبر 2024 میں 684 ملین ڈالر کے سرپلس کے بعد آیا۔

اس سرپلس کی بڑی وجہ درآمدی بل میں نمایاں کمی ہے۔

نومبر 2025 کے دوران ملکی مجموعی برآمدات 3.09 ارب ڈالر رہیں جو پچھلے ماہ 3.44 ارب ڈالر کے مقابلے میں 10 فیصد سے زائد کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔

دریں اثنا نومبر 2025 میں مجموعی درآمدات 5.68 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو سالانہ بنیاد پر تقریباً 12 فیصد کمی ہے جب کہ اکتوبر 2025 میں یہ 6.43 ارب ڈالر تھیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق نومبر 2025 میں ورکرز ریمیٹنس کی آمد 3.19 ارب ڈالر رہی جو اکتوبر 2025 میں 3.42 ارب ڈالر کے مقابلے میں 7 فیصد ماہانہ کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ (جولائی تا نومبر) کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ نے 812 ملین ڈالر کے مجموعی خسارے کا ریکارڈ کیا جب کہ گزشتہ سال اسی مدت میں 503 ملین ڈالر سرپلس رہا تھا۔

پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر (سی آر آر/ایس سی آر آر کو چھوڑ کر) 14.68 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو سالانہ بنیاد پر 21 فیصد کے نمایاں اضافے کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ پر جاری ساختی دباؤ کے باوجود بیرونی مالیاتی ذخائر مضبوط ہیں۔