پاکستان

سی ایس آر فنڈز، قومی اسمبلی کمیٹی کی کے پی ٹی اور گیس ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے درمیان اصل معاہدوں کی فراہمی کی ہدایت

  • کمیٹی کو بندرگاہوں پر فائر فائٹنگ خدمات آؤٹ سورس کرنے سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی
شائع December 17, 2025 اپ ڈیٹ December 17, 2025 09:23am

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور نے منگل کے روز کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی فنڈز (سی ایس آر) کے استعمال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کراچی پورٹ ٹرسٹ اور دو اہم گیس ٹرانسپورٹ کمپنیوں کراچی گیس ٹرانسپورٹ لمیٹڈ اور کراچی گیس ٹرمینل مینٹیننس لمیٹڈ کے درمیان ہونے والے اصل معاہدوں کی فراہمی کی ہدایت کی ہے۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت عبدالقادر پٹیل نے کی، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کراچی پورٹ ٹرسٹ متعلقہ معاہدے پیش کرے۔ کمیٹی نے کچھ پیش رفت کے باوجود مزید دستاویزات کا جائزہ لینے اور مکمل تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے فالو اپ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا۔

اجلاس کے دوران کمیٹی کو بندرگاہوں پر فائر فائٹنگ خدمات آؤٹ سورس کرنے سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی، جس کے نتیجے میں سالانہ 35 ملین روپے کی بچت ہو رہی ہے۔ حکام نے بتایا کہ آؤٹ سورسنگ کے ذریعے ایسی خصوصی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں جو اندرونی سطح پر فراہم کرنا ممکن نہیں تھا۔

کمیٹی نے عوامی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے فیسلیٹیشن سینٹر کے قیام کی تجویز پر بھی غور کیا۔ کمیٹی کے ارکان نے اس اقدام کی حمایت کی اور اس کی پیش رفت سے باقاعدہ آگاہ رکھنے کی ہدایت کی۔

قانون سازی کے حوالے سے اجلاس میں بحری شعبے سے متعلق چار اہم بلز کا جائزہ لیا گیا جن میں ماحول دوست انداز میں جہازوں پر موجود خطرناک مواد کی فہرست کے انتظام سے متعلق بل 2025، پورٹ قاسم اتھارٹی ترمیمی بل 2025، گوادر پورٹ اتھارٹی ترمیمی بل 2025 اور کراچی پورٹ ٹرسٹ ترمیمی بل 2025 شامل ہیں۔

اگرچہ وزارت قانون نے بین الاقوامی تقاضوں کی تکمیل کے لیے خطرناک مواد سے متعلق بل کی فوری منظوری پر زور دیا، تاہم کمیٹی نے چاروں بلز کو مزید غور و خوض کے لیے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔ ارکان کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی تجاویز یا ترامیم یکم جنوری 2026 تک جمع کرائیں۔

بلز کو مؤخر کرنے کا فیصلہ بحری قوانین کے حوالے سے کمیٹی کے محتاط رویے کی عکاسی کرتا ہے، بالخصوص بین الاقوامی ماحولیاتی ذمہ داریوں کی تکمیل کے تناظر میں۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ تمام مجوزہ قانون سازی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور قومی و بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے کو یقینی بنایا جائے گا۔

اس کے علاوہ وزارت قانون کو جمع کرائے گئے تحریری سوالات کے بارے میں فیصلہ کیا گیا کہ ارکان جوابات کا جائزہ لیں گے اور اگر وہ مطمئن نہ ہوئے تو کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سیکریٹری کے ساتھ علیحدہ اجلاس بھی طلب کیا جا سکے گا تاکہ تمام تحفظات کا ازالہ ہو سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025