پاور ڈویژن کے اقدامات سے اسمارٹ میٹرز کی قیمتوں میں نمایاں کمی
- اس کمی کے نتیجے میں قومی سطح پر سالانہ تقریباً 150 ارب روپے کی بچت متوقع ہے، وزیر توانائی
پاور ڈویژن نے پیر کے روز کہا کہ شفافیت اور مسابقت کو بہتر بنانے کے لیے کیے گئے مسلسل اقدامات اور بروقت فیصلوں کے نتیجے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے اسمارٹ میٹرز کی قیمتوں میں 40 فیصد تک کمی آ گئی ہے۔
اسمارٹ میٹرز سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ اس کمی کے نتیجے میں قومی سطح پر سالانہ تقریباً 150 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شفاف اور بین الاقوامی مسابقتی بنیادوں پر خریداری کے طریقہ کار اپنانے سے تھری فیز اسمارٹ میٹر کی قیمت تقریباً 45 ہزار روپے سے کم ہو کر 25 ہزار روپے سے بھی نیچے آ گئی ہے، جو اب روایتی تھری فیز میٹر کی لاگت کے قریب ہے، جبکہ سنگل فیز اسمارٹ میٹر کی قیمت میں 7 ہزار روپے کی کمی آئی ہے۔ یہ قیمتیں قابلِ اطلاق ٹیکسز کے بغیر ہیں۔
وزیر توانائی کے مطابق پاور ڈویژن کی بہتر منصوبہ بندی اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ضوابط میں مثبت ترامیم کے باعث بین الاقوامی کمپنیوں کی بھرپور شرکت ممکن ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ انٹری بیریئرز کے خاتمے اور تمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے اجتماعی طور پر اسمارٹ میٹرز کی خریداری نے خام مال اور دیگر سپلائز کی لاگت کم کر کے قیمتوں میں نمایاں کمی میں کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ اسمارٹ میٹرز کے لیے واضح اور مسابقتی معیارات متعارف کرانے اور مسلسل نگرانی کے عمل نے بھی قیمتیں کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیر توانائی نے بتایا کہ 150 ارب روپے کی سالانہ بچت کا تخمینہ تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے خراب اور پرانے میٹرز کی تبدیلی کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئے میٹرز کی تنصیب سے بجلی صارفین کو اضافی مالی ریلیف بھی ملے گا، جو نئے کنکشنز کے لیے جاری کیے جانے والے ڈیمانڈ نوٹسز میں کم لاگت کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ ان کے مطابق اسمارٹ میٹرز کی کم قیمتیں پاور سیکٹر میں ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کریں گی اور قومی گرڈ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنائیں گی۔
سردار اویس لغاری نے اسمارٹ میٹرز کے فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ غلط ریڈنگز کے خاتمے، بجلی چوری کی فوری نشاندہی، پری پیڈ بلنگ کی سہولت، صارفین کو اپنی بجلی کے استعمال کے ڈیٹا تک براہ راست رسائی، لائن مین کے بغیر بجلی کی جلد بحالی اور دیگر متعدد سہولیات فراہم کریں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025