چین اور سعودی عرب کا خطے اور عالمی امور میں قریبی تعاون بڑھانے پر اتفاق
- چینی وزیر خارجہ وانگ یی مشرق وسطیٰ کے تین ممالک کے دورے پر ہیں، جو متحدہ عرب امارات سے شروع ہوا اور توقع ہے کہ اردن میں ختم ہوگا
چین اور سعودی عرب نے خطے اور عالمی امور میں قریبی رابطے اور ہم آہنگی قائم کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ بیجنگ نے مشرق وسطیٰ میں ریاض کے کردار کو سراہا، یہ معلومات دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد جاری بیانات میں سامنے آئیں۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی مشرق وسطیٰ کے تین ممالک کے دورے پر ہیں، جو متحدہ عرب امارات سے شروع ہوا اور توقع ہے کہ اردن میں ختم ہوگا۔
انہوں نے اتوار کو ریاض میں سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان السعود سے ملاقات کی۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کون سے مسائل پر ممالک قریبی تعاون کریں گے، لیکن بیان میں ذکر کیا گیا کہ چین سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کو فروغ دینے اور بہتر بنانے کی حمایت کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ چین سعودی عرب کے قائدانہ کردار اور خطے و عالمی سطح پر سلامتی اور استحکام کے حصول کی کوششوں کی قدر کرتا ہے۔
بیان میں دونوں ممالک کی فلسطینی مسئلے کے جامع اور منصفانہ حل اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کو بھی دہرایا گیا۔
اعلیٰ سطح کی ملاقات میں وانگ یی نے سعودی ہم منصب کو بتایا کہ چین ہمیشہ سعودی عرب کو مشرق وسطیٰ کی خارجہ پالیسی کے لیے ترجیحی ملک اور عالمی سفارت کاری میں ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے۔
انہوں نے توانائی، سرمایہ کاری، نئی توانائی اور گرین ٹرانسفارمیشن کے شعبوں میں مزید تعاون کی حوصلہ افزائی بھی کی۔
بیان کے مطابق دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفارتی اور خصوصی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا معافی پر بھی اتفاق کیا۔
یہ اقدامات خطے میں تعلقات کو مستحکم کرنے اور اقتصادی و توانائی کے شعبوں میں قریبی شراکت داری کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔