کمبوڈیا کے ساتھ سرحدی جھڑپیں پھیلنے پر تھائی لینڈ نے ساحلی علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا
- جنوب مشرقی ایشیا کے یہ ہمسایہ ممالک رواں برس کئی بار مسلح تصادم میں الجھ چکے ہیں
تھائی لینڈ نے اتوار کے روز اپنے جنوب مشرقی صوبے ترات میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، کیونکہ کمبوڈیا کے ساتھ جاری جھڑپیں متنازع سرحدی علاقے کے ساحلی علاقوں تک پھیل گئی ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر اور ممکنہ ثالث ڈونلڈ ٹرمپ نے دو روز قبل کہا تھا کہ دونوں فریق فائر بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔
جنوب مشرقی ایشیا کے یہ ہمسایہ ممالک رواں برس کئی بار مسلح تصادم میں الجھ چکے ہیں۔ مئی میں ایک جھڑپ کے دوران کمبوڈین فوجی کی ہلاکت کے بعد تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں سرحد کے دونوں جانب لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
بینکاک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تھائی وزارت دفاع کے ترجمان ریئر ایڈمرل سوراسنت کونگسیری نے کہا کہ کمبوڈیا کی جانب سے ہفتے کو ایک بار پھر جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کرنے کے باوجود جھڑپیں مسلسل جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تھائی لینڈ سفارتی حل کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ کمبوڈیا پہلے دشمنانہ کارروائیاں بند کرے۔
تھائی فوج نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا کہ اس نے ایک پل تباہ کر دیا ہے جسے کمبوڈیا بھاری ہتھیار اور دیگر سامان پہنچانے کے لیے استعمال کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ کمبوڈیا کے ساحلی صوبے کوہ کونگ میں پہلے سے نصب توپخانے کو نشانہ بنانے کی کارروائی بھی کی گئی۔ کمبوڈیا نے الزام عائد کیا ہے کہ تھائی حملوں میں شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔
ترات صوبے میں نافذ کرفیو پانچ اضلاع تک محدود ہے جو کوہ کونگ سے متصل ہیں، جبکہ سیاحتی جزائر کوہ چانگ اور کوہ کوڈ کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ اس سے قبل مشرقی صوبے ساکیو میں بھی کرفیو نافذ کیا جا چکا ہے جو تاحال برقرار ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان پیر سے اب تک 817 کلومیٹر طویل سرحد کے مختلف مقامات پر بھاری ہتھیاروں کا تبادلہ ہوا ہے، جو جولائی میں ہونے والی پانچ روزہ جھڑپوں کے بعد سب سے شدید لڑائی قرار دی جا رہی ہے۔ اس وقت یہ تصادم ٹرمپ اور ملائیشیا کی ثالثی سے ختم ہوا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا تھا کہ انہوں نے تھائی لینڈ کے نگراں وزیراعظم اور کمبوڈیا کے وزیراعظم سے بات کی ہے اور دونوں نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم ہفتے کو تھائی لینڈ کے وزیراعظم نے اعلان کیا کہ جب تک ملک اور عوام کو لاحق خطرات ختم نہیں ہوتے، لڑائی جاری رکھی جائے گی۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق ٹرمپ توقع رکھتے ہیں کہ تمام فریق اپنے وعدوں کی پاسداری کریں گے اور اگر ضرورت پڑی تو قتل و غارت روکنے اور دیرپا امن یقینی بنانے کے لیے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔