پاکستان

عراق جانے والے زائرین کو مقررہ مدت سے زائد قیام کی اجازت نہیں ہوگی، محسن نقوی

  • برسلز میں عراقی ہم منصب جنرل عبدالامیر الشمری سے ملاقات، تعاون کو پائیدار اور مؤثر بنیادوں پر فروغ دینے پر اتفاق
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ عراق جانے والے زائرین کو مقررہ مدت سے زائد قیام کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی، اس حوالے سے دونوں ممالک کے متعلقہ ادارے قریبی رابطے میں رہیں گے۔

وزارت داخلہ کی ایک پریس ریلیز کے مطابق محسن نقوی نے یہ بیان برسلز میں اپنے عراقی ہم منصب جنرل عبدالامیر الشمری کے ساتھ ایک اہم ملاقات کے دوران دیا۔ ملاقات میں پاکستان اور عراق کے دوطرفہ تعلقات اور زائرین کی سہولت کے لیے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں ملکوں کی وزارتِ داخلہ کے درمیان تعاون کو پائیدار اور مؤثر بنیادوں پر فروغ دینے پر بھی اتفاق ہوا ۔

عراقی وزیر داخلہ نے پاکستان کی جانب سے زائرین گروپس کو باقاعدہ منظم اور ریگولیٹ کرنے کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا پاکستان کی جانب سے پہلی بار زائرین گروپس کو منظم کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزارت داخلہ کی جانب سے فراہم کردہ فہرست میں شامل تمام زائرین کو عراق آنے کی اجازت ہوگی۔

دونوں وزرائے داخلہ نے سیکیورٹی تعاون، انسدادِ دہشت گردی اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے معلومات کے تبادلے اور مشترکہ میکنزم کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے عراقی حکومت اور عوام کا زائرین کے لیے بھرپور تعاون اور روایتی میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستانی زائرین کی سلامتی، عزت اور سہولت حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔

عراقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ بہت جلد پاکستان کا دورہ کریں گے تاکہ زائرین کی سہولت، سیکیورٹی تعاون اور دوطرفہ روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آئندہ کا مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جاسکے۔

یہ پیش رفت اس دن کے بعد سامنے آئی جب محسن نقوی نے نرسلز میں یورپی یونین کمشنر برائے داخلی امور و مائیگریشن میگنس برنر کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی جس میں دونوں جانب نے غیر قانونی ہجرت کو روکنے، انسانی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات کرنے اور دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات کے دوران یورپی یونین کمشنر میگنس برنر نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں پاکستان سے یورپ جانے کی غیر قانونی کوششوں میں (ڈنکی کے ذریعے) 47 فیصد کمی آئی ہے، جو پاکستان کی مؤثر حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے اس کامیابی پر پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان کے اقدامات کو مثالی قرار دیا۔

کمشنر برنر نے جلد پاکستان کا دورہ کرنے کا اعلان بھی کیا، تاکہ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف پاکستان کی کوششوں کا براہِ راست جائزہ لیا جا سکے اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی مشاورت ہو سکے۔