پاکستان

پنجاب زرعی منڈی منصوبہ، ایشیائی بینک نے تکنیکی معاونت کو غیر موثر قرار دیدیا

  • حکومت نے ایشیائی ترقیاتی بینک سے پنجاب ایگریکلچر مارکیٹس ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے لیے معاونت طلب کی تھی
شائع December 12, 2025 اپ ڈیٹ December 12, 2025 09:32am

ایشیائی ترقیاتی بینک کے انڈیپنڈنٹ ایویلیوایشن ڈیپارٹمنٹ(آئی ای ڈی) نے پنجاب ایگریکلچر مارکیٹس ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کی تیاری کے لیے فراہم کی گئی تکنیکی معاونت کو کم مؤثر اور کم کامیاب قرار دیا ہے۔

آئی ای ڈی نے اپنی تکنیکی معاونت مکمل ہونے کی رپورٹ میں کہا کہ اس معاونت کا مقصد پنجاب میں جدید اور جامع ہول سیل زرعی مارکیٹ کے قیام کے لیے منصوبے کی تیاری میں مدد فراہم کرنا تھا۔ اس کا ہدف تھا کہ منصوبے کے لیے قرض کی تیاری کو بہتر بنایا جائے اور دو بنیادی نتائج حاصل کیے جائیں: اول، سرمایہ کاری کے قابلِ عمل ہونے کا مطالعہ؛ دوم، پنجاب میں زرعی منڈیوں کی ترقی کے لیے ماسٹر پلان کی تیاری۔

حکومت نے ایشیائی ترقیاتی بینک سے پنجاب ایگریکلچر مارکیٹس ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے لیے معاونت طلب کی تھی۔

ابتدائی تکنیکی معاونت کی رقم آٹھ لاکھ ڈالر تھی جسے دو معمولی ترامیم کے بعد بڑھا کر بیس لاکھ ڈالر کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ایڈیم نے چھ دسمبر 2021 کو سات لاکھ ڈالر اور تین اگست 2022 کو مزید پانچ لاکھ ڈالر فراہم کیے تاکہ اضافی مطالعات اور سرویز مکمل کیے جا سکیں۔ تکنیکی معاونت کے تحت مجموعی فنڈز کا 99.4 فیصد استعمال ہوا اور تقریباً انیس لاکھ اٹھاسی ہزار ڈالر خرچ کیے گئے۔ اس کے باوجود متعدد توسیعات، اضافی فنڈنگ اور بڑی رقم کے استعمال کے بعد بھی زیادہ تر سرگرمیاں مکمل نہ ہو سکیں اور منصوبے کی تیاری کا مقصد حاصل نہ ہوا۔ اس بنا پر آئی ای ڈی نے تکنیکی معاونت کو کم مؤثر قرار دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر آغاز میں حقائق کا زیادہ جامع جائزہ لیا جاتا تو سماجی تحفظات اور زمین کے حصول سے متعلق مسائل جیسے بڑے نقائص سے بچا جا سکتا تھا۔ تکنیکی معاونت میں بعد کی تبدیلیوں میں بھی سماجی تحفظ کے خدشات کو درست طور پر نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی سرگرمیوں میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں جو مطلوبہ نتائج کے حصول میں مدد دے سکتیں۔ تکمیل رپورٹ کے مطابق حکومت کی ترجیحات میں تبدیلی اور پرانے حل طلب معاملات کے باعث تکنیکی معاونت کا عمل ختم کر دیا گیا اور کوئی قرضہ نہیں دیا گیا۔ ان خامیوں کی بنیاد پر آئی ای ڈی نے معاونت کو کم موزوں قرار دیا۔

اگرچہ مستعدی، قابل عمل ہونے کی جانچ اور فییزیبلٹی اسٹڈیز کا آغاز ہوا تھا، مگر وہ مکمل نہ ہو سکیں۔ ماسٹر پلان کے کچھ حصے تیار ہوئے لیکن ان میں تفصیلات موجود نہیں تھیں۔ نتیجتاً تکنیکی معاونت کے اہداف جزوی طور پر پورے ہوئے اور منصوبہ، جس کے لیے یہ معاونت فراہم کی گئی تھی، عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ اسی بنیاد پر آئی ای ڈی نے اسے کم مؤثر قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق سرگرمیوں میں درپیش مسائل اور رکاوٹوں کے باعث تکنیکی معاونت مؤثر ثابت نہ ہوئی اور کوئی قرضہ جاری نہ ہو سکا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025