انکریمینٹل ٹیرف پیکیج، نیپرا نے صنعتی و زرعی صارفین کیلئے 22.98 روپے فی یونٹ کی منظوری دیدی
- اِنکریمینٹل کھپت کے حساب کے لیے حوالہ جاتی مدت دسمبر 2023 سے نومبر 2024 تک رکھی گئی ہے
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے صنعت کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو پسِ پشت رکھتے ہوئے حکومت کے تین سالہ مراعاتی اِنکریمینٹل ٹیرف پیکیج کی منظوری دے دی، جس کے تحت صنعتی اور نجی زرعی صارفین کے لیے ٹیرف 22.98 روپے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے۔
اِنکریمینٹل کھپت کے حساب کے لیے حوالہ جاتی مدت دسمبر 2023 سے نومبر 2024 تک رکھی گئی ہے اور یہ پیکیج صرف صنعتی اور نجی زرعی صارفین پر اطلاق پائے گا جیسا کہ نوٹیفائی شدہ شیڈول میں درج ہے۔
نیپرا نے 11 نومبر 2025 کو عوامی و نجی شعبے کے نمائندوں کے ساتھ اس مراعاتی ٹیرف پیکیج پر عوامی سماعت کی تھی۔
نیپرا کے مطابق اگر کسی صارف کا کھپت ریکارڈ دستیاب نہ ہو یا اس کی حوالہ جاتی کھپت صفر ہو تو نئے صارفین کے لیے بنائے گئے بینچ مارک اصول لاگو ہوں گے۔ وہ صارفین جو حوالہ جاتی مہینے کے بعد اپنے ٹیرف کیٹیگری تبدیل کریں یا نان ٹائم آف یوز سے ٹائم آف یوز میں منتقل ہوں، انہیں بھی نئے صارف کے طور پر شمار کیا جائے گا۔ البتہ وہ صارفین جو ایک ہی کیٹیگری میں رہتے ہوئے مثلاً بی 2 سے بی 3 میں منتقل ہوں، نئے صارف نہیں سمجھے جائیں گے اور لوڈ میں اضافے کے لیے پہلے سے موجود بینچ مارک فارمولے لاگو ہوں گے۔
وہ صارفین جو اپنی کیٹیگری تبدیل کریں، جیسے کمرشل سے صنعتی، انہیں بھی پیکیج کے حصول کے لیے نئے صارف کے طور پر لیا جائے گا۔ اگر کوئی صارف حوالہ جاتی مدت کے دوران ڈس کنیکٹ رہا ہو یا اس کا میٹر خراب ہو تو نئے صارف کے بینچ مارک اصول لاگو ہوں گے۔
جس مہینے صارف کا میٹر خراب یا لاکڈ ہو، اس مہینے میں اسے یہ رعایت نہیں ملے گی۔ ڈِٹیکشن یونٹس کو نہ تو بینچ مارک اور نہ ہی اِنکریمینٹل کھپت کے حساب میں شامل کیا جائے گا۔ ڈائل ایڈجسٹمنٹ (ڈٹیکشن کے سوا) بینچ مارک کے حساب میں شامل ہوگی۔
تمام کیپٹو پاور پلانٹس (سی پی پیز) کو نئے صارف تصور کیا جائے گا۔ اگر کسی صارف کا میٹر ایم ڈی آئی ریکارڈ نہیں کر سکتا تو صرف منظور شدہ لوڈ کو بینچ مارک کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ڈیوٹیز اور ٹیکس قابل ادائیگی رقم پر لاگو ہوں گے۔
نیٹ میٹرنگ صارفین اسی صورت اہل ہوں گے جب متعلقہ مہینے میں بجلی کی نیٹ امپورٹ ہو۔ بینچ مارک صرف امپورٹ شدہ یونٹس پر مبنی ہوگا اور اِنکریمینٹل یونٹس کی حد نیٹ امپورٹ (امپورٹ مائنس ایکسپورٹ) کے مطابق مقرر کی جائے گی۔ اِنکریمینٹل یونٹس کو پیِک اور آف پیِک اوقات میں تناسب کے ساتھ تقسیم کیا جائے گا۔ ان یونٹس پر ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی نہیں دی جائے گی۔
وہیلنگ صارفین بھی اس پیکیج کے لیے اہل ہوں گے اور انہیں نئے صارف کے طور پر لیا جائے گا۔ نیپرا نے تصدیق کی کہ کے الیکٹرک کی نیٹ میٹرنگ سے متعلق تشریح جس میں صرف موجودہ مہینے کی امپورٹس کو بنیاد بنایا جاتا ہے درست ہے۔
کاروباری حلقوں کے نمائندوں نے نیپرا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ ریگولیٹر نے پاور ڈویژن کی تجاویز کو بغیر غور و خوض کے منظور کر لیا۔
ایک صنعتکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ نیپرا ربڑ اسٹیمپ بن چکا ہے۔ عوامی سماعتیں محض رسمی کارروائی رہ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیکیج امتیازی ہے، کچھ صنعتوں کو بند کر دے گا اور دیگر کو غیر ضروری فائدہ دے گا۔ امیر شیخ کے مطابق بیشتر ٹیکسٹائل ملیں 60 فیصد لوڈ فیکٹر کی شرط کے باعث اس پیکیج سے باہر ہو جائیں گی۔
پاور ڈویژن نے تنقید کے جواب میں کہا کہ صنعتی ٹیرف مارچ 2024 کے 62.99 روپے فی یونٹ سے کم ہو کر اکتوبر 2025 میں 44.70 روپے فی یونٹ ہو گیا ہے۔ ڈویژن نے ایک سالہ بینچ مارک پیریڈ کے استعمال کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس مدت کے دوران صنعتی کھپت سب سے کم تھی، جس سے صارفین کے لیے زیادہ موزوں بینچ مارک فراہم ہوتا ہے۔
ڈویژن نے مزید کہا کہ صنعت نے 2022 میں پہلے ہی 34 ارب یونٹس استعمال کیے تھے—جو کہ بینچ مارک مدت سے 20 فیصد زائد ہے—اس لیے اضافی سرمایہ کاری کیے بغیر اس پیکیج سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ڈویژن نے آئی ایم ایف کی مزاحمت کے دعوؤں کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ آئی ایم ایف نے کبھی ایسے سبسڈی نیوٹرل اسکیموں کی مخالفت نہیں کی جو گرڈ استعمال میں اضافہ کریں۔
نیپرا نے تسلیم کیا کہ اسٹیک ہولڈرز نے پاور ڈویژن کے تجویز کردہ حد سے زیادہ لوڈ فیکٹرز پر شدید اعتراضات کیے۔ نیپرا کے مطابق حقیقی صنعتی لوڈ فیکٹر اس سے کہیں کم ہیں۔
نیپرا نے کہا کہ اگرچہ حقیقی لوڈ فیکٹرز کا استعمال زیادہ مناسب ہوتا، لیکن دیگر صارفین پر سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کے ذریعے اضافی بوجھ سے بچنے کے لیے پاور ڈویژن کے تجویز کردہ لوڈ فیکٹرز کو منظور کر لیا گیا۔ نیپرا نے نئے صارفین کے فارمولے میں ترمیم کرتے ہوئے یہ اصول اپنایا کہ متعلقہ مہینے کے لیے ایم ڈی آئی کی وہ قدر استعمال کی جائے جو صارف کی اہلیت میں اضافہ کرتی ہو۔
نیپرا نے وہیلنگ صارفین کی شمولیت کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ انہیں نکالنا نیپرا ایکٹ کی دفعہ 7(6) کے خلاف ہوگا اور صنعتی کھپت بڑھانے کے مقصد کو نقصان پہنچائے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025