پاکستان

پولیس اور پروکیورمنٹ پاکستان کے سب سے زیادہ بدعنوان شعبے،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا سروے

  • یہ سروے حکومت کی بدعنوانی کے خلاف کوششوں، اقتصادی استحکام، اور صحت کے شعبے میں اخلاقی رویوں پر عوام کے تاثرات بھی ماپتا ہے، چیئرمین ٹی آئی پی
شائع December 9, 2025 اپ ڈیٹ December 9, 2025 02:01pm

ملک میں سب سے زیادہ بدعنوانی کے شکار شعبے پولیس، عدلیہ اور ٹینڈر/پروکیورمنٹ سمجھے جاتے ہیں۔ عوامی رائے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کے مقابلے میں زیادہ بدعنوانی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

یہ نتیجہ نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے (این سی پی ایس) 2025 سے اخذ کیا گیا ہے، جو ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان(ٹی آئی پی) نے منگل کو جاری کیا۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ) ضیا پرویز نے کہا کہ سروے مختلف موضوعات پر روشنی ڈالتا ہے، جن میں زیادہ بدعنوان سمجھے جانے والے شعبے، بدعنوانی میں کردار ادا کرنے والے عوامل، اور عوامی رائے کے مطابق انسداد بدعنوانی اداروں کی کارکردگی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سروے حکومت کی بدعنوانی کے خلاف کوششوں، اقتصادی استحکام، اور صحت کے شعبے میں اخلاقی رویوں پر عوام کے تاثرات بھی ماپتا ہے۔ سیاسی فنڈنگ، وہسلبلوئر پروٹیکشن، اور ٹیکس سے مستثنیٰ خیراتی اداروں میں شفافیت کے حوالے سے سوالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری تمام شعبوں میں شفافیت اور ایمانداری کے حوالے سے فکر مند ہیں۔

این سی پی ایس 2025 کے مطابق، حکومت کی بدعنوانی کے خلاف کوششوں پر 77 فیصد افراد ناخوش ہیں۔ صوبائی بنیادوں پر ناخوشی کی شرح یوں ہے: بلوچستان 80 فیصد، پنجاب 78 فیصد، سندھ اور خیبر پختونخوا ہر ایک 75 فیصد۔

سروے کے مطابق 66 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں کبھی رشوت دینے پر مجبور نہیں کیا گیا۔ اقتصادی لحاظ سے 57 فیصد نے کہا کہ ان کی خریداری کی طاقت گزشتہ 12 ماہ میں کم ہوئی، جبکہ 43 فیصد نے بہتری محسوس کی۔ تاہم، مجموعی طور پر 58 فیصد افراد نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام اور فیٹف سے نکلنے کے اقدامات کے ذریعے معیشت کو مستحکم کیا۔

این سی پی ایس 2025 سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ عوام چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کے کاروباری فنڈنگ پر پابندی یا قانون سازی کی جائے۔ ملک گیر سطح پر 42 فیصد مکمل پابندی کے حق میں اور 41 فیصد قانون سازی کے حق میں ہیں۔

سروے کے مطابق صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کے مقابلے میں زیادہ بدعنوان سمجھی جاتی ہیں، 59 فیصد افراد نے عدم اعتماد ظاہر کیا، پنجاب میں یہ شرح 70 فیصد تک پہنچ گئی۔ 78 فیصد پاکستانی چاہتے ہیں کہ نیب اور ایف آئی اے جیسے انسداد بدعنوانی اداروں کو جوابدہ بنایا جائے۔

عوامی رائے کے مطابق سب سے زیادہ بدعنوان شعبہ پولیس ہے (24 فیصد)، اس کے بعد ٹینڈر اور پروکیورمنٹ (16 فیصد) اور عدلیہ (14 فیصد) ہیں۔ پنجاب میں پولیس کے حوالے سے بدعنوانی کا تاثر سب سے زیادہ ہے (34 فیصد)، بلوچستان 22 فیصد، سندھ 21 فیصد، اور خیبر پختونخوا 20 فیصد۔

سروے میں تین بنیادی وجوہات سامنے آئیں جو بدعنوانی کو فروغ دیتی ہیں: جوابدہی کا فقدان (15 فیصد)، شفافیت اور معلومات تک رسائی کا فقدان (15 فیصد)، اور بدعنوانی کے کیسز کے فیصلے میں تاخیر (14 فیصد)۔

صوبائی انسداد بدعنوانی ادارے (اے سی ایز) غیر مؤثر سمجھے جاتے ہیں، 33 فیصد نے انہیں مکمل غیر مؤثر اور 34 فیصد نے کم مؤثر قرار دیا۔ سندھ میں غیر مؤثریت کا تاثر 39 فیصد اور پنجاب میں 37 فیصد ہے۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین نے کہا کہ این سی پی ایس 2025 بدعنوانی کی پیمائش نہیں کرتا بلکہ یہ دکھاتا ہے کہ لوگ کس طرح عوامی اداروں کے ساتھ روزمرہ کے تعلقات میں اسے محسوس کرتے ہیں۔ یہ عوامی اعتماد کی اہم نشاندہی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کو کہاں اصلاحات، شفافیت اقدامات، اور جوابدہی کے میکانزم کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سروے کے مطابق عوام نے اپنی حکومت کے دوران بدعنوانی کا سامنا کم کرنے کی کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اقتصادی استحکام، اصلاحات، اور شفافیت کے اقدامات کے ذریعے عوامی توقعات پر پورا اتر رہی ہے اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔