نیسلے پاکستان کے پلانٹس عالمی سطح کے معیار کے مطابق اپ گریڈ
- نیسلے سولر اور بایوماس توانائی کے نظام نافذ کررہا ہے
نیسلے پاکستان جو سوئس کمپنی نیسلے ایس اے کی ذیلی کمپنی ہے نے شیخوپورہ اور خانیوال میں اپنی مینوفیکچرنگ آپریشنز کو عالمی معیار تک پہنچا دیا ہے اور دونوں فیکٹریاں اب مکمل طور پر خودکار ہیں اور نیسلے کے عالمی نظام کے ساتھ مربوط ہیں۔
نیسلے پاکستان کے وفد نے پیر کو وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کے دوران ایک بیان میں کہا کہ یہ جدید کاری پاکستان میں ان کے آپریشنز کو کمپنی کے صفِ اوّل کے عالمی پلانٹس کے برابر لا کھڑا کرتی ہے۔
نیسلے پاکستان کے وفد جس کی قیادت چیف ایگزیکٹو آفیسر جیسن اوانسینا کررہے ہیں اور ان کے ہمراہ چیف فنانشل آفیسر مقصود احمد انجم اور ہیڈ آف کارپوریٹ افیئرز اینڈ سسٹین ایبلٹی شیخ وقار احمد موجود تھے نے وزیرِ خزانہ کو کمپنی کی پاکستان کے لیے طویل مدتی وابستگی اور مستقبل میں توسیع کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر نے نیسلے پاکستان کی ٹیکنالوجی سے چلنے والی مینوفیکچرنگ میں نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا۔
اوونسینا نے پائیداری، زرعی خدمات کی تبدیلی، مینوفیکچرنگ کی بڑھتی صلاحیت اور ویلیو چین میں جدید ٹیکنالوجیز کے نفاذ میں جاری اور آنے والی سرمایہ کاری پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ نیسلے سولر اور بایوماس توانائی کے نظام، ڈیجیٹل ڈیش بورڈز، ماحولیاتی لحاظ سے بہتر پیکیجنگ، اور سپلائی چین آٹومیشن کو نافذ کر رہا ہے، جس سے آپریشنل اخراجات اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی ممکن ہو رہی ہے اور کمپنی کی طویل مدتی مسابقت مضبوط ہو رہی ہے۔
ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کی رسمی معیشت کو مضبوط بنانے اور ذمہ دارانہ، طویل مدتی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
سرکاری سطح پر غیر رسمی شعبے پر کڑی نگرانی کے عزم پر زور دیتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ بہتر تعمیل، شفافیت اور مضبوط ٹیکس ایکوسسٹم پاکستان کی اقتصادی بحالی کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
سرکاری سطح پر غیر رسمی شعبے پر کڑی نگرانی کے عزم پر زور دیتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ بہتر تعمیل، شفافیت، اور مضبوط ٹیکس ایکوسسٹم پاکستان کی اقتصادی بحالی کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
وزیر خزانہ نے فنانس ڈویژن میں ٹیکس پالیسی آفس کے قیام کو ایک اہم ساختی اصلاح قرار دیا جو نجی شعبے کے ساتھ سال بھر مسلسل رابطے کو ممکن بنائے گاجس سے پالیسی کی بہتری اور آئندہ بجٹ کے دور سے قبل مؤثر نفاذ ممکن ہو سکے گا۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ نیسلے پاکستان نے گزشتہ تین سالوں میں اپنی درآمدات تقریباً آدھی کر دی ہیں، جو تقریباً 150 ملین ڈالر سے کم ہو کر 76–80 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جس سے غیر ملکی زرمبادلہ کے دباؤ کو کم کیا گیا اور پاکستان کے زرعی اور مینوفیکچرنگ بیس کے ساتھ انضمام کو گہرا کیا گیا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے لوکلائزیشن کی کوششوں کو سراہا اور فوڈ اینڈ بیوریجز کے شعبے میں مزید رسمی کاری اور ٹیکس مساوات کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کے ارادے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ تمباکو میں حاصل ہونے والے فوائد، جہاں رسمی شعبے کی مقدار میں اضافہ ہوا کیونکہ نفاذ سخت کیا گیا، ایک ماڈل پیش کرتے ہیں جسے دیگر صنعتوں میں بھی دہرایا جا سکتا ہے، جیسے پیکیجڈ جوسز، جہاں غیر رسمی پلیئرز ٹیکس نیٹ سے باہر کام کر کے مارکیٹ شیئر تیزی سے بڑھارہے ہیں۔
وزیرِ خزانہ نے نیسلے پاکستان کی اس تیاری کا خیرمقدم کیا کہ وہ مالیاتی ڈویژن میں قائم ٹیکس پالیسی آفس کے ساتھ ممکنہ اصلاحات پر کام کرے، تاکہ ٹیکس وصولی بہتر ہو، شعبہ وار غیر معمولیات کو درست کیا جا سکے، اور ملکی مینوفیکچرنگ کی حمایت کی جا سکے، جبکہ عوامی مفاد کے مقاصد کو بھی برقرار رکھا جائے۔
وفد نے برآمدات کی کارکردگی پر بھی بات کی، جس میں کمپنی کی امریکہ، کینیڈا، خلیج اور برطانیہ کے بازاروں میں موجودگی شامل تھی۔
وزیرِ خزانہ نے وسطی ایشیائی مارکیٹ تک رسائی بڑھانے کے لیے لاجسٹکس میں شراکت داری کے امکانات تلاش کرنے کی ہدایت دی اور دوبارہ زور دیا کہ حکومت برآمدات پر مبنی صنعت کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
نیسلے کی جانب سے اگلے چند سالوں میں پائیداری، زرعی تبدیلی، خودکاری، اور بچوں اور ڈیری نیوٹریشن میں پیداوار کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے وسیع سرمایہ کاری کے سلسلے میں، وفد نے عالمی سطح پر ان منصوبوں کے اعلان کی نیسلے کی خواہش کا اظہار کیا۔
آئندہ ڈیووس میں ہونے والی ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے، وفد نے بتایا کہ نیسلے کی عالمی قیادت، جس میں زون ایشیا، اوشیانیا اور افریقہ کے ایگزیکٹو نائب صدر ریمی ایجل بھی شامل ہیں، اس ایونٹ میں شرکت کا ارادہ رکھتی ہے اور وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے منتظر ہیں۔