پاکستان

کراچی میں سندھی کلچر ڈے ریلی میں تصادم، متعدد افراد گرفتار

  • کشیدگی بڑھنے پر ریلی کے شرکا نے نجی اور سرکاری گاڑیوں پر پتھراؤ شروع کر دیا
شائع اپ ڈیٹ

کراچی میں اتوار کو شارعِ فیصل پر ایف ٹی سی پل کے قریب سندھی کلچر ڈے ریلی کے شرکا اور پولیس کے درمیان جھڑپ کے بعد متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

ریلی، جو کراچی پریس کلب کی جانب بڑھ رہی تھی، اس وقت تشدد کا شکار ہوگئی جب پولیس نے شرکا سے متبادل راستہ اختیار کرنے کی درخواست کی۔

کشیدگی بڑھنے پر ریلی کے شرکا نے نجی اور سرکاری گاڑیوں پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ کچھ شرپسند عناصر نے خواتین مسافروں کو ہراساں کیا اور سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا۔

جوابی کارروائی میں پولیس نے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور شیلنگ کی۔

بعد ازاں حکام نے سیکیورٹی خدشات کے باعث ایف ٹی سی کے قریب شارعِ فیصل کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا، جس کے نتیجے میں لمبی قطاریں لگ گئیں اور شہر بھر میں ٹریفک جام ہو گیا۔

ذرائع کے مطابق ایس ایس پی ساوتھ بھاری نفری کے ساتھ موقع پر موجود رہے تاکہ صورتحال قابو میں رکھی جا سکے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ شہریوں کے لیے متبادل راستے فراہم کیے جا رہے ہیں، تاہم کسی کو بھی ریڈ زون کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس حکام نے بتایا کہ گاڑیوں کو کالا پل سے صدر کی طرف موڑا جا رہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ جو بھی قانون ہاتھ میں لے گا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

پولیس کے مطابق ریلی کو کالا پل سے صدر کے راستے آگے بڑھنے کی ہدایت کی گئی تھی، لیکن شرکا نے مزاحمت کی اور پتھراؤ شروع کر دیا۔

واقعے کے دوران ایک ویڈیو سامنے آئی جو ایک مسافر بس کے اندر سے ریکارڈ کی گئی تھی، جس میں کچھ نامعلوم افراد کو ہنگامہ آرائی میں ملوث دیکھا جا سکتا ہے، جن میں بس کی کھڑکیوں کے شیشے توڑنا اور پولیس موبائل کو نقصان پہنچانا شامل تھا۔

سندھ کے وزیرِ داخلہ ضیاء الحسن نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو فوری کارروائی کی ہدایت کی۔

صوبائی وزیر نے حکام کو ہدایت دی کہ گاڑیوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کی فوری گرفتاری یقینی بنائی جائے۔