خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے معاملے میں چین کی حمایت کرتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ
- اپنے دفاع میں سرحد بند کرنا جائز ہے، سفیر طاہر حسین اندرابی
دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے متعلق معاملات میں چین کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ سفیر طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران افغانستان کے ساتھ تجارتی سرحد بند کرنے کے پاکستان کے فیصلے کا دفاع کیا۔ افغانستان کو انسانی امداد کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی انسانی ہمدردی کے سامان کی رہائی کی منظوری دی ہے جو اقوام متحدہ کی ایجنسیوں بشمول عالمی ادارہ خوراک، یونیسف اور یو این ایف پی کی درخواست پر دی گئی۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کے نے کہا کہ اپنے دفاع میں سرحد بند کرنا جائز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دوسری طرف سے فائرنگ کے نتیجے میں بارڈر سیکیورٹی گارڈز شہید ہوتے ہیں یا تجارتی چوکیاں تباہ ہوتی ہیں، تو اپنے دفاع میں سرحد کو بند کرنے کی اجازت ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ قانونی ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے سعودی عرب میں مبینہ طور پر افغان طالبان حکومت سے بات چیت کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے سری لنکا کو بھیجے جانے والے اپنے انسانی امداد کے سامان کے لئے پرواز کی اجازت میں بھارت کی جانب سے تاخیر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بھارت کے اس اقدام کو غیر معمولی آفت سے نمٹنے کی فوری ضرورت کے منافی قرار دیا۔
بھارت میں اروناچل پردیش کے نام سے جانی جانے والی زانگنان کے حوالے سے چینی بیانات پر سوالات کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے متعلق معاملات میں چین کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
ترجمان سفیر طاہر حسین اندرابی نے بابری مسجد کے انہدام کے 33 سال مکمل ہونے کے حوالے سے اسے ایک ایسا واقعہ قرار دیا جو اب بھی گہرے غم اور تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ بھارتی مسلمانوں کی حمیت کی علامت ہے اور بین الاقوامی برادری سے مسلم مذہبی ورثے کے تحفظ کو یقینی بنانے کا متقاضی ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ تمام مذہبی اقلیتوں کے برداشت، شمولیت اور مساوی شہریت کے حق کو برقرار رکھے۔
افغان اور پاکستانی میڈیا میں اسلام آباد اور افغان طالبان حکومت کے درمیان سعودی عرب میں مذاکرات کی خبروں کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ ایسی ملاقاتوں کی تصدیق کے لیے کوئی معلومات موجود نہیں ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ جب کوئی قابل اعتبار معلومات دستیاب ہوں گی تو پاکستان تفصیلات شیئر کرے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025