پاکستان

پاکستان اور کرغیزستان کادوطرفہ تجارت 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا عزم

  • نیا تجارتی ہدف پاکستان کی وسیع تر پالیسی ویژن سینٹرل ایشیا کا حصہ ہے، شہباز شریف
شائع December 5, 2025 اپ ڈیٹ December 5, 2025 09:02am

پاکستان اور کرغیزستان نے جمعرات کے روز دوطرفہ تجارت کو 2027-28 تک 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کر دیا ہے، جو متعدد اہم شعبوں میں تعلقات مضبوط بنانے کی مسلسل کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ اعلان وزیراعظم شہباز شریف اور کرغیزستان کے صدر ساڈر ژاپاروف کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد سامنے آیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے تجارت، توانائی، علاقائی روابط اور سیکیورٹی سمیت کلیدی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اجلاس میں پاکستان اور کرغیزستان کے اعلیٰ حکام، جن میں وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر بھی شامل تھے، نے اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے مختلف امکانات پر غور کیا۔ مذاکرات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک نتائج پر مبنی حکمت عملی اپنائیں گے اور اہم معاہدات اور مفاہمتی یادداشتوں پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے تاکہ مقررہ تجارتی ہدف حاصل کیا جا سکے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ نیا تجارتی ہدف پاکستان کی وسیع تر پالیسی ویژن سینٹرل ایشیا کا حصہ ہے، جس کا مقصد وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ اقتصادی و اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

کرغیز صدر کے ہمراہ آنے والا وفد، جس میں متعدد وزرا اور اعلیٰ حکام شامل تھے، مذاکرات کی اہمیت کا عکاس تھا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی روابط بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا، خصوصاً بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے۔ اس موقع پر سی اے ایس اے-1000 منصوبہ خاص طور پر زیرِ بحث آیا، جو وسطی ایشیا سے جنوبی ایشیا تک بجلی کی ترسیل کا ایک اہم علاقائی منصوبہ ہے۔ دونوں ممالک نے اس منصوبے پر بروقت پیش رفت کو انتہائی اہم قرار دیا اور اسے خطے میں توانائی کے تحفظ اور اقتصادی انضمام کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔

اس کے ساتھ ساتھ، دونوں ممالک نے کوآڈری لیٹرل ٹریفک ان ٹرانزٹ ایگریمنٹ کے تحت سڑک رابطوں کی بہتری اور محفوظ، متنوع اور پائیدار تجارتی راستوں کے فروغ پر بھی اتفاق کیا۔ تعلیم، زراعت اور سیاحت کے شعبوں میں مشترکہ بین الحکومتی کمیشن کے پانچویں اجلاس کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور عوامی روابط کے فروغ کے عزم کو دہرایا گیا۔ علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے دونوں رہنماؤں نے افغانستان کی صورت حال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ افغان حکام دہشت گردی کے خاتمے اور علاقائی استحکام کے لیے اپنے وعدے پورے کریں۔

بین الاقوامی امور میں فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر خودمختار ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ دورے کے دوران توانائی، تجارت، زراعت، ثقافت اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں 15 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں خارجہ اکیڈمیوں کے درمیان تعاون، تجارتی و توانائی کے معاہدات، مجرموں کے تبادلے کا معاہدہ اور اسلام آباد و بشکیک کو جڑواں شہر قرار دینے کا فیصلہ شامل ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025