افغانستان میں انسانی امداد کی فوری رسائی یقینی بنائی جائے ، پاکستان کا مطالبہ
- امدادی سامان کو جلد افغانستان میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جائے گی ، عہدیدار اقوامِ متحدہ
پاکستان اقوامِ متحدہ کی امدادی سپلائی کو عارضی طور پر افغانستان میں داخل ہونے کی اجازت دے گا، حکام نے جمعرات کو تصدیق کی۔ یہ اجازت اکتوبر میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی ہلاکت خیز جھڑپوں کے بعد پہلی جزوی سرحدی نرمی ہے۔
دونوں ممالک کے تعلقات 2021 میں کابل میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے تنازع اور کشیدگی کا شکار ہیں۔ اسلام آباد کا الزام ہے کہ اس کا پڑوسی عسکریت پسندوں کو پناہ دیتا ہے جو سرحد پار حملے کرتے ہیں، جب کہ افغان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔
ایک سرکاری اہلکار، جو میڈیا سے بات کرنے کا مجاز نہیں تھا نے اے ایف پی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں کی باضابطہ درخواستوں کے جواب میں حکومتِ پاکستان نے ان کے کنٹینرز کو افغانستان منتقل کرنے کے لیے محدود اور مخصوص انسانی ہمدردی کی بنیاد پر استثنا کی منظوری دے دی ہے۔
اہلکار کے مطابق امدادی سامان میں خوراک، ادویات، طبی ساز و سامان اور صحت و تعلیم سے متعلق دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں۔
یہ امداد تین مراحل میں منتقل کی جائے گی، تاہم پہلے مرحلے کے آغاز کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
ایک اقوامِ متحدہ کے عہدیدار نے بھی تصدیق کی کہ امداد جلد افغانستان میں داخل ہونے کی اجازت حاصل کر لے گی۔
تاہم اسپن بولدک جو اہم سرحدی گزرگاہ کے قریب واقع افغان شہر ہے کی اطلاعات کے سربراہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں اور سرحدی دروازہ بند ہے۔
سرحد اکتوبر میں ہونے والے تصادم کے بعد سے بند ہے اور اس دوران صرف وہ افغان شہری گزر سکے ہیں جنہیں پاکستان سے بے دخل کیا جا رہا تھا۔
پاکستانی اہلکار نے کہا کہ سرحد عام تجارت کے لیے بند رہے گی اور امداد کے لیے جزوی کھولنا مشروط ہوگا۔
اہلکار کے مطابق پاکستان نے افغانستان کے ساتھ عمومی تجارت یا امیگریشن کے لیے سرحد نہیں کھولی اور نہ ہی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بحال کی ہے۔
12 اکتوبر کو مہلک سرحدی جھڑپ کے بعد گزرگاہ بند ہونے سے درجنوں افغان ٹرک خراب شدہ پھل سبزی اور دیگر سامان کے ساتھ پھنس گئے تھے، جس کے بعد ایک کمزور جنگ بندی ہوئی۔
پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (پی اے جے سی سی آئی) کے مطابق اس بندش کے باعث دونوں جانب نقصانات 100 ملین ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں اور بارڈر ریجنز میں تقریباً 25 ہزار کارکن متاثر ہوئے ہیں۔
ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان، جو دریا سے محروم افغانستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اسے چاول، دواسازی کی مصنوعات اور خام مال فراہم کرتا ہے، جبکہ گزشتہ سال افغانستان کی 45 فیصد برآمدات بھی پاکستان ہی نے حاصل کیں۔