پاکستان

سیف سٹی پراجیکٹ کراچی کو محفوظ اور ٹیکنالوجی سے لیس شہر بنا دیگا، وزیرِاعلیٰ سندھ

  • کچے کے علاقے میں کارروائیوں کے نتیجے میں 71 ڈاکوؤں نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے، مراد علی شاہ
شائع December 3, 2025 اپ ڈیٹ December 3, 2025 01:43pm

سندھ کے وزیرِاعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سیف سٹی پراجیکٹ کا مقصد کراچی کو ایک محفوظ اور ٹیکنالوجی سے لیس میٹروپولیس میں تبدیل کرنا ہے، جس کے لیے جامع ویڈیو نگرانی کا نظام قائم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کچے کے علاقے میں کارروائیوں کے نتیجے میں 71 ڈاکوؤں نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

یہ بات انہوں نے پی ایس پی کے ڈپٹی کمانڈنٹ (این پی اے) سرفراز احمد فلکی کی سربراہی میں 47 ابتدائی کمانڈ کورس کے شرکاء کے 52ویں خصوصی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جس نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ان سے ملاقات کی۔

مراد علی شاہ نے سندھ پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے حوالے سے حکومت کی عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ پولیس کا دائرۂ کار بہت وسیع ہے، جس میں 131,850 اہلکار 31 اضلاع، 8 زونز/رینجز اور 618 تھانوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، اور اس کے لیے سالانہ 189.7 ارب روپے کا بجٹ مختص ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ پولیس، جس کی بنیاد 1843 میں سر چارلس نیپیئر نے رائل آئرش کانسٹیبلری کے ماڈل پر رکھی، برصغیر کی سب سے پرانی اور پاکستان کی دوسری بڑی پولیس فورس ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیف سٹی پراجیکٹ کراچی کو محفوظ اور ٹیکنالوجی سے مضبوط شہر بنانے کے لیے اعلیٰ معیار کی سی سی ٹی وی کیمروں، فیشل ریکگنیشن اور آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن کے نظام پر مبنی ہے۔ تمام ویڈیوز کو مرکزی پولیس دفتر میں قائم کمانڈ، کنٹرول اور کمیونیکیشن سینٹر میں حقیقی وقت میں مانیٹر کیا جاتا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ فیز-ون میں ہائی سیکیورٹی ریڈ زون اور ایئرپورٹ کوریڈور شامل ہیں، جبکہ فیز-ٹو جلد ضلع ساؤتھ، ایسٹ اور ملیر تک پھیلایا جائے گا، جس میں ہزاروں اضافی کیمرے اور ای-چالان کے لیے انٹیلیجینٹ ٹریفک سسٹم کیمرے نصب کیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ایس فور پراجیکٹ (اسمارٹ/سیف سرویلنس، سیکیورٹی اور اسٹریٹیجک سپورٹ) کو سیف سٹی پلیٹ فارم کے ساتھ مربوط کیا جائے گا تاکہ پولیس آپریشنز کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ پولیس اسٹیشن کے نظام کی خودکاری سے ایف آئی آرز اور مقدمات کی فائلنگ کو ڈیجیٹل کیا جائے گا، جس سے شفافیت اور عوامی سہولت میں اضافہ ہوگا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025