پی ٹی اے کی سوشل میڈیا گروپس سے غیر ملکی ممبران کو ہٹانے کی ہدایت جاری کرنے کی تردید
- عوام غیر تصدیق شدہ معلومات کو شیئر کرنے سے گریز کریں، ٹیلی کام اتھارٹی
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا ایک جعلی نوٹیفکیشن جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پی ٹی اے نے سوشل میڈیا گروپ ایڈمنسٹریٹرز کو غیر ملکی ممبران کو ہٹانے کی ہدایت کی ہے، سراسر غلط ہے۔
منگل کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک اعلان میں پی ٹی اے نے کہا کہ اس نے ایسی کوئی ہدایت جاری نہیں کی ہے۔ عوام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ معلومات کو شیئر کرنے سے گریز کریں اور صرف پی ٹی اے کے سرکاری ذرائع پر بھروسہ کریں تاکہ حقیقی اپ ڈیٹس حاصل کی جا سکیں۔
جعلی نوٹیفکیشن میں لوگوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے ایسے تمام سوشل میڈیا گروپس سے غیر ملکیوں کو ہٹا دیں جو پاکستان کے اندر سے چلائے جا رہے ہیں تاکہ ان کے نجی ڈیٹا اور معلومات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ جعلی اعلان میں ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں سزا سے خبردار بھی کیا گیا ہے۔
ایک اور ہدایت میں ٹیلی کام اتھارٹی نے ایسے دھوکہ بازوں سے خبردار کیا ہے جو خود کو پی ٹی اے کے اہلکار ظاہر کرکے نجی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اتھارٹی نے مشورہ دیا کہ ایسے افراد کے ساتھ اپنی ذاتی معلومات، بشمول او ٹی پی اور پاس ورڈ، شیئر نہ کریں۔
دھوکہ باز اکثر آپ کی ذاتی معلومات حاصل کرنے کے لیے خود کو پی ٹی اے، بینک یا کورئیر سروسز کے نمائندے ظاہر کرتے ہیں۔
اپنی ذاتی معلومات جیسے او ٹی پی، شناختی کارڈ یا پاس ورڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں اور کسی بھی مشکوک لنک یا پیغام پر کلک کرنے سے گریز کریں۔
دھوکہ یا مشکوک سرگرمی کی صورت میں، پی ٹی اے نے ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم (سی ایم ایس) یا سی ایم ایس موبائل ایپ کے ذریعے شکایت درج کرائی جائے۔