دنیا

بنگلہ دیشی رہنما خالدہ ضیا کی حالت نازک ، جلا وطن بیٹے کی واپسی غیر یقینی صورتحال کا شکار

  • طارق رحمان کی واپسی پر کوئی پابندی یا اعتراض نہیں ، عبوری حکومتی سربراہ محمد یونس
شائع November 30, 2025 اپ ڈیٹ November 30, 2025 01:57pm

سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم اور اپوزیشن رہنما خالدہ ضیا ڈھاکہ کے ایک اسپتال میں انتہائی نازک حالت میں ہیں جبکہ ان کے جلاوطن بیٹے اور عبوری پارٹی سربراہ طارق رحمان کی واپسی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

پارٹی ذرائع نے اتوار کو بتایا کہ 80 سالہ خالدہ ضیا کو 23 نومبر کو سینے کے شدید انفکشن پر نجی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا،اس عارضے نے ان کے دل اور پھیپھڑوں کو متاثر کیاہے۔

ڈاکٹرز اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے سینئر عہدیداروں نے مزید بتایاکہ ان کی خراب ہوتی صحت اس وقت سامنے آئی ہے جب ان کی سیاسی پارٹی حساس مرحلے سے گزر رہی ہے۔ پارٹی نے حال ہی میں ملکی سیاست میں دوبارہ اہمیت حاصل کرلی ہے۔

واضح رہے کہ شیخ حسینہ واجد بنگلہ دیش کی طویل عرصے تک وزیراعظم رہنے کے بعد پچھلے سال طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے بعد اقتدار سے علیحدہ ہو گئی تھیں۔

طارق رحمان جو 2008 سے لندن میں مقیم ہیں نے ہفتہ کو فیس بک پر لکھا کہ ان کی بنگلہ دیش واپسی مکمل طور پر ان کے اختیار میں نہیں، جس سے سیاسی یا قانونی رکاوٹوں کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔

چند گھنٹوں بعد عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے کہا کہ ان کی واپسی پر کوئی پابندی یا اعتراض نہیں ہے۔

محمد یونس کے پریس سیکرٹری شفیق الحق عالم نے فیس بک پوسٹ میں کہا کہ اس معاملے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

خالدہ ضیا کی حالت نے بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے اندر غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا ہے، کیونکہ پارٹی اپنی سربراہ کی سنگین بیماری کے دوران اپنی اگلی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے، جبکہ عبوری چیئرمین ابھی بیرون ملک ہیں۔

پارٹی، جس نے 2014 اور 2024 کے متنازع انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا، اگست سے سیاسی منظر نامے میں دوبارہ ابھر کر سامنے آئی ہے اور بنگلہ دیش کے بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے میں اہم جماعت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔