پاکستان

ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 18 فیصد تک لے جانے کیلئے روڈ میپ تیار کر لیا، چیئرمین ایف بی آر

  • اس وقت ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 10.33 فیصد ہے جبکہ صوبوں کی جانب سے ٹیکسوں کی شراکت محض 0.85 فیصد ہے
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے کہا ہے کہ حکومت نے ٹیکس بیس میں توسیع کے ذریعے مالی سال 2028 تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 18 فیصد تک بڑھانے کے لیے ایک واضح روڈ میپ تیار کر لیا ہے۔

پاکستان بزنس کونسل کے زیر اہتمام ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے، جس کا موضوع “ایف بی آر کو تبدیلی کرنا” تھا، انہوں نے بتایا کہ اس وقت ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 10.33 فیصد ہے جبکہ صوبوں کی جانب سے ٹیکسوں کی شراکت محض 0.85 فیصد ہے۔ ان کے مطابق آٹومیشن، ڈیجیٹلائزیشن اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ذریعے وفاقی سطح پر ٹیکس شرح کو 15 فیصد تک لے جایا جائے گا جبکہ صوبوں کی شراکت کو 3 فیصد تک بڑھانا ہوگا۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ادارے نے ٹیکس چوری میں ملوث افراد کا ڈیٹا جمع کر لیا ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ذریعے ٹیکس چوری پر مؤثر قابو پایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2 سے 3 سال پہلے مارکیٹ میں دو قسم کی چینی دستیاب تھی، ایک ٹیکس شدہ اور دوسری بغیر ٹیکس، لیکن اب صرف ٹیکس شدہ چینی فروخت ہو رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیکسٹائل اسپننگ سیکٹر میں بھی 15 لاکھ بیلز کا ریکارڈ موجود ہے، تاہم فیصل آباد کی سوتر منڈی میں پیدا ہونے والے بیلز کا ایف بی آر کے پاس کوئی ریکارڈ موجود نہیں کہ وہ کہاں گئے اور کہاں ایکسپورٹ ہوئے۔

راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ ٹیکس چوری کی ایک بڑی مثال یہ بھی ہے کہ ملک کے 90 فیصد سے زائد اسپتال صرف نقد رقم وصول کرتے ہیں اور ڈیبٹ، کریڈٹ کارڈ یا آن لائن بینکنگ کے ذریعے ادائیگی قبول نہیں کرتے تاکہ اپنی اصل آمدن چھپا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف ایک لاکھ 50 ہزار ڈاکٹر ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہیں اور اوسطاً وہ سالانہ صرف 20 لاکھ روپے انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں، جبکہ ان کا طرزِ زندگی ظاہر کرتا ہے کہ ان کی ماہانہ آمدن 10 لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔

انہوں نے برآمدکنندگان پر عائد 2 فیصد ٹیکس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت یہ سمجھے کہ اس سے برآمدات متاثر ہو رہی ہیں تو اسے واپس بھی لیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مینوفیکچرنگ اور کارپوریٹ سیکٹر پر بھاری ٹیکس عائد ہیں اور انہیں مسابقتی بنانے کے لیے ٹیکس رییشنلائزیشن وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپر ٹیکس اور زیادہ کارپوریٹ ٹیکس کا کوئی جواز نہیں اور دستیاب مالی گنجائش کے مطابق ان میں کمی کے لیے کام جاری ہے۔

اس موقع پر ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز ڈاکٹر حمید عتیق سرور نے کہا کہ حکومت اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ آئندہ کسی بھی صورت ٹیکس ایمنسٹی اسکیم متعارف نہیں کرائی جائے گی کیونکہ اس سے ہمیشہ ٹیکس چوروں کو فائدہ پہنچتا ہے۔

اس سے قبل ایف بی آر کی میکنزی ٹیم کے علی جان خان نے ٹیکس چوری کی روک تھام اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025