سی سی پی کا بڑے نجی اسکولز کو شوکاز نوٹس ، والدین کو مہنگی اشیاء خریدنے پر مجبور کرنے کا الزام
- کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان سالانہ ٹرن اوور کا 10 فیصد یا 75 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کر سکتا ہے
کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے ملک کے 17 بڑے نجی اسکول سسٹمز کو شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں۔ ان اسکولوں پر الزام ہے کہ وہ والدین کو مہنگے، لوگو والے نوٹ بکس، ورک بکس اور یونیفارمز صرف اسکول کے منظور شدہ سپلائرز سے خریدنے پر مجبور کرکے اپنی اثر و رسوخ کی پوزیشن کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔
سی سی پی کے مطابق اس اقدام کا مقصد لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندانوں کو غیر منصفانہ اور غیر مسابقتی قیمتوں سے بچانا ہے۔
سی سی پی نے اپنے اعلامیے میں بتایا کہ یہ کارروائی بے شمار والدین، سرپرستوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی شکایات پر شروع ہونے والی ازخود انکوائری کے بعد کی جا رہی ہے۔
شکایات میں من مانی فیسوں میں اضافہ، غیر شفاف فروخت کے طریقہ کار اور لازمی برانڈیڈ اسٹیشنری کی خریداری کی پابندی شامل تھیں، جس کے باعث والدین کو مہنگے پیکجز خریدنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا تھا۔
جن اسکول سسٹمز کو تحقیقات میں شامل کیا گیا اُن میں بیکن ہاؤس اسکول سسٹم، دی سٹی اسکول، ہیڈ اسٹارٹ، لاہور گرامر اسکول (ایل جی ایس)، فرابلز، روٹس انٹرنیشنل، روٹس ملینیم، کیپس، الائیڈ اسکولز، سپر نووا، دارِ ارقم، اسٹیپ اسکول، ویسٹ منسٹر انٹرنیشنل، یونائیٹڈ چارٹر اسکول اور دی اسمارٹ اسکول سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔
یہ نیٹ ورکس ملک بھر میں سینکڑوں کیمپس چلاتے اور لاکھوں طلبہ کو تعلیم فراہم کرتے ہیں، جس سے یہ والدین پر نمایاں اثر رکھتے ہیں۔
انکوائری کے مطابق والدین کو لوگو والے نوٹ بکس، ورک بکس، یونیفارمز اور دیگر لازمی اشیاء صرف اسکول کے منظور شدہ آؤٹ لیٹس سے خریدنے کا پابند بنایا گیا۔
اسی طرح متعدد کیسز میں اسکولوں نے لازمی اسٹڈی پیک آن لائن پورٹل یا مخصوص دکانداروں کے ذریعے فروخت کیے، جبکہ طلبہ کو کھلے بازار سے عام نوٹ بکس یا یونیفارمز لانے کی اجازت نہیں تھی۔
سی سی پی کے مطابق ہر اسکول کے اپنے طلبہ کے لیے وہی واحد آپشن ہوتا ہے، اس لیے اس مخصوص صورتحال میں اسکول کا حصہ 100 فیصد بنتا ہے۔
یعنی بچہ ایک بار داخل ہو جائے تو والدین کے پاس اسی اسکول کی فراہم کردہ چیزیں لینے کے سوا کوئی اور انتخاب نہیں رہتا۔، جس کے باعث طلبہ مجبور صارف بن گئے، جبکہ برانڈیڈ اسٹیشنری اور یونیفارم کی مارکیٹ بندھی ہوئی مارکیٹ (tied market) بن گئی۔
رپورٹ کے مطابق کئی اسٹڈی پیک عام مارکیٹ میں دستیاب متبادل اشیاء سے 280 فیصد تک مہنگے تھے۔ بڑے اسکول سسٹمز نے ایسے بندھن والے انتظامات کیے جن میں طلبہ کا داخلہ برقرار رکھنے کی شرط یہ رکھی گئی کہ وہ مخصوص نوٹ بکس اور یونیفارمز لازمی خریدیں۔
اسکولوں نے مخصوص وینڈرز مقرر کیے جس سے ملک بھر کے ہزاروں اسٹیشنری فروشوں اور یونیفارم بیچنے والوں کی مارکیٹ بند ہو گئی۔
رپورٹ کے مطابق لازمی برانڈیڈ اشیاء کی خریداری اور کاروباری پابندیاں مقابلے کے ایکٹ 2010 کی دفعات 4(1) اور 4(2)(اے ) کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اسکول تبدیل کرنے کی بلند لاگت، کم تر دستیاب متبادل، بھاری ٹرانسفر فیس اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کی وجہ سے والدین کے پاس کوئی حقیقی آپشن نہیں بچتا تھا اور اسکول باآسانی یہ پالیسیاں نافذ کرتے رہے۔
سی سی پی نے مشاہدہ کیا کہ یہ طریقہ کار مارکیٹ تک رسائی محدود کرتے ہیں، چھوٹے تاجروں کو نقصان پہنچاتے اور ملک بھر میں صارفین کے انتخاب کو کم کرتے ہیں۔
پاکستان میں نجی تعلیمی ادارے مجموعی داخلے کا تقریباً نصف حصہ رکھتے ہیں۔ مہنگائی کے دوران پہلے ہی گھریلو بجٹ دباؤ میں ہے، ایسے میں مہنگی برانڈیڈ اسٹیشنری اور یونیفارمز کا بوجھ خاندانوں کے لیے مزید تکلیف دہ ہے اور تعلیمی شعبے میں ضرورت سے زیادہ تجارتی رجحان پر سوال اٹھاتا ہے۔
سی سی پی نے 17 اسکول سسٹمز کو ہدایت کی ہے کہ وہ 14 دن کے اندر اندر اپنے تحریری جوابات جمع کروائیں اور اپنے مجاز نمائندوں کے ذریعے کمیشن کے سامنے پیش ہوں، بصورت دیگر ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔
قانون کے مطابق ایسی خلاف ورزیوں پر سی سی پی سالانہ ٹرن اوور کے 10 فیصد یا 75 کروڑ روپے، جو بھی زیادہ ہو، جرمانہ عائد کر سکتا ہے۔