لیڈر نمایاں اسی وقت ہوتے ہیں جب اُن میں ذہانت، روشن فکری، محنت، دلکشی، توانائی، مسابقت اور فہم و فراست جیسی خصوصیات پائی جائیں۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو رہنماؤں کو ابھارتے اور معتبر بناتے ہیں۔ زیادہ تر مطالعات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایک لیڈر کے پاس ایسی ذہنی پھرتی ہونی چاہیے جو اُسے طرح طرح کے چیلنجز کو دیکھنے اور سمجھنے کے قابل بنائے۔ رہنماؤں میں یہ شدید خواہش بھی ہونی چاہیے کہ وہ اپنے حریفوں اور طے شدہ معیاروں سے بہتر کارکردگی دکھائیں۔

رہنماؤں میں ایسا دلکش تاثر ہونا ضروری ہے جو اختلاف اور مخالفین کی مزاحمت کم کرنے میں مدد دے۔ کامیاب قیادت کی بنیادی نشانیاں انہی عناصر پر مشتمل ہوتی ہیں۔ قیادت سے متعلق عالمی ادب بجا طور پر اس بات پر توجہ دیتا ہے کہ لیڈروں کو ان خوبیوں کو کیسے اپنانا چاہیے تاکہ وہ اپنے درپیش چیلنجز سے نکل سکیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ جتنی زیادہ گفتگو، تحقیق اور تحریریں قیادت کے بارے میں سامنے آتی ہیں، اتنا ہی ایسے رہنماؤں کی کمی محسوس ہوتی ہے جو عظیم قیادت کی فہرست میں واقعی جگہ بنا سکیں۔ دنیا پر نظر ڈالیں تو ایسے بہت کم لیڈر دکھائی دیتے ہیں جو حقیقی قیادت کے امتحان پر پورا اترتے ہوں۔

وقت بدل چکا ہے۔ وقت بدل رہا ہے۔ تبدیلی کی رفتار اتنی تیز ہے کہ اکثر رہنما مخالف ہوا کے بگولوں میں پھنس کر طوفان سے نکلنے کا راستہ بنانے میں ناکام رہتے ہیں۔ بیشتر ملکوں اور کمپنیوں میں حالات انتشار اور بے چینی کا شکار ہیں۔ ٹیکنالوجی برق رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے۔ کاروباری اصول راتوں رات تبدیل ہو رہے ہیں۔ دفاتر میں ملازمین نسلی اور نسلیاتی نوعیت کی نئی کشمکش کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال نے قیادت کی کشتی کو ہچکولوں میں ڈال دیا ہے۔

ایسے ماحول میں جہاں ہر چیز گردش میں ہے، ثابت قدم رہنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کسی رہنما کی حکمت و دانائی اہمیت اختیار کرتی ہے۔ حکمت ہمیشہ فلسفیوں تک محدود سمجھی گئی ہے۔ لفظ ’حکمت‘ سنیں تو ارسطو کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ مگر جب ہم دیکھتے ہیں کہ حکمت چند مخصوص لوگوں کی میراث نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں درکار ہے، تو ہمیں اس کے لیے ایک خاص ذہنی رویہ پیدا کرنا پڑتا ہے۔ آج کی دنیا میں، جہاں فیصلے رجحانات کی بنیاد پر لینے کا دباؤ خود ایک نیا رجحان بن چکا ہے، وہاں پہلے سے کہیں زیادہ حکمت کی ضرورت ہے۔

ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ حکمت و دانائی بڑھاپے کے ساتھ آتی ہے۔ حقیقت میں ایسا نہیں۔ اگر ہم دنیا کے چند معمر حکمرانوں کے غیر دانشمندانہ رویّے دیکھیں تو سمجھ آتا ہے کہ حکمت ایک انتخاب ہے، ایک ایسا انتخاب جو زندگی کے کسی بھی مرحلے پر کیا جا سکتا ہے۔ اور ہر انتخاب کی طرح، حکمت کا راستہ بھی مشکل اور اس کے لیے درکار صبر بہت کٹھن ہوتا ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا حتیٰ کہ سب سے متوازن لوگوں کو بھی غیر مستحکم رویّوں کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ رہنما احترام پیدا کرنے میں سرمایہ کاری کم اور انسٹاگرام پر ’لائکس‘ بڑھانے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ اگر قیادت میں ہوش مندی اور حکمت کی ضرورت کبھی تھی تو وہ آج ہے۔ حکمت یا دانائی دراصل علم اور تجربے کو استعمال کرتے ہوئے درست فیصلے کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ یہ بظاہر آسان لگتا ہے، لیکن ہے نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے گرد اٹھنے والی ہر لہر کا مقابلہ کریں اور وہ کام کریں جو آج بہت کم رہنما کرتے ہیں، یعنی حکمت و دانائی کے چار ستونوں پر کام:

ستون نمبر 1: دانا رہنما جانتے ہیں کہ وہ سب کچھ نہیں جانتےرہنماؤں کا ایک داخلی میکانزم ہوتا ہے۔ وہ کامیاب ہوتے ہیں، آگے بڑھتے ہیں۔ یہ بلندی انہیں یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ دوسروں سے بہتر ہیں۔ یہی بلندی انا کو مضبوط کرتی ہے، سیکھنے کا دروازہ بند کرتی ہے اور اردگرد کے خطرات انہیں دکھائی نہیں دیتے۔

حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ رہنما بلندی پر پہنچ کر زمین سے جڑے رہنے کی ضرورت کو محسوس کریں۔ وہ اپنی حدود اور کمزوریوں کو تسلیم کریں۔ وہ اس علم کی تلاش کریں جو انہیں نہیں آتا۔ اس کے لیے بہترین طریقہ ہے ’ذاتی مشاورتی بورڈ‘ قائم کرنا۔ یہ کسی ڈائریکٹرز بورڈ کی طرح نتائج مانگنے والا فورم نہیں بلکہ منتخب، باخبر، معتبر افراد کا ایک دائرہ ہوتا ہے جو مختلف شعبوں میں زیادہ علم رکھتے ہوں اور آپ کے بے نام مشیر بننے پر آمادہ ہوں۔مثلاً اگر آپ جانتے ہیں کہ سپلائی چین آپ کی مہارت نہیں، تو سپلائی چین کا مشیر رکھیں اور اہم فیصلوں کے وقت اس سے رہنمائی لیں۔

اسی طرح تنازع حل کرنے، انسانی وسائل یا باصلاحیت افراد کے انتظام میں ماہر مشیر رکھیں۔ یہ سیکھنے اور سوچے سمجھے فیصلے کرنے کا انتہائی دانا طریقہ ہے۔

ستون نمبر 2: دانا رہنما جینئس نہیں ہوتے، جینئس تیار کرتے ہیںاگرچہ قیادت کو عموماً چمکتا دمکتا مظاہرہ سمجھا جاتا ہے، مگر حکمت اس سے کہیں آگے جاتی ہے۔ ایک دانا رہنما جانتا ہے کہ ترقی کا معاملہ اس کی اپنی ذات کے بڑھنے کا نہیں بلکہ اس کی ٹیم کے بڑھنے کا ہے۔ یہ احساس کہ ’’جینئس‘‘ کہلانے اور کمپنی کی کامیابی کا سارا کریڈٹ اکیلے لینے کی خواہش پر قابو پایا جائے، دور اندیشی کی بنیاد ہے۔ ایک رہنما کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ خود کتنا اچھا بنا، بلکہ یہ کہ اس نے کتنے اچھے رہنما تیار کیے۔ دانا رہنما سمجھتا ہے کہ کامیاب ہونے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی ٹیم کو کامیاب بنائے۔ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اُن کے پاس بڑھنے کا راستہ موجود ہے۔ وہ ایسی حکمتِ عملی وضع کرتا ہے جس سے لوگ اچھا محسوس کریں اور اچھے دکھائی دیں۔ وہ ان کے لیے ’’آہا لمحے‘‘ پیدا کرتا ہے، ان کی کوششوں کو سراہتا ہے اور اُن کی چھوٹی کامیابیوں کو بھی بھرپور انداز میں مناتا ہے۔

ستون نمبر 3: دانا رہنما ہدایات نہیں دیتے، شامل کرتے ہیںعام طور پر رہنما کی پہلی تصویر وہ شخص ہوتی ہے جو آگے کھڑے ہو کر سمت دیتا ہے۔ اگرچہ یہ کئی مواقع پر درست ہے، لیکن اس سے ٹیم کی جانب سے پہل کرنے کا کردار محدود ہو جاتا ہے۔ پیروکار پیروکار ہی رہتے ہیں اور ہر وقت اوپر سے آنے والی ہدایات کے منتظر رہتے ہیں۔ اس سے رہنما کی شبیہ تو بہتر ہوتی ہے مگر طویل مدت میں یہ حکمتِ عملی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ مشہور لوگ بتاتے اور جواب دیتے ہیں، جبکہ دانا لوگ پوچھتے، دیکھتے اور سنتے ہیں۔ ذہن کو بیدار، بااختیار اور روشن کرنے کا بہترین طریقہ درست سوالات کرنا ہے۔ حکمت کا تقاضا ہے کہ لوگوں کو شامل کرنے کا بہترین انداز یہ ہے کہ اُن کی سوچ کو گہرے اور بصیرت افروز سوالات کے ذریعے اُبھارا جائے۔ دانا رہنما بڑی مہارت سے حل اُن لوگوں سے برآمد کرواتے ہیں جنہیں بعد میں اسے نافذ کرنا ہوتا ہے۔ یہی عمل سیکھنے، بلندی اور ملکیت کے احساس کو جنم دیتا ہے۔

ستون نمبر 4: دانا رہنما رویّے دکھاتے اور واضح کرتے ہیںقیادت اثر انگیز ترغیب کا نام ہے۔ جب بات ترغیب کی ہو تو ذہن میں فوراً ایک دل موہ لینے والا مقرر آتا ہے۔ یہ درست بھی ہو سکتا ہے، لیکن دانا رہنما الفاظ پر کم اور عمل پر زیادہ بھروسہ کرتا ہے۔ حالیہ کوچنگ اسائنمنٹ میں ایک رہنما، جو نچلے درجے کے ملازمین میں احترام اور وقار کی ثقافت پیدا کرنے میں مشکلات محسوس کر رہا تھا، کو یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ نصیحت کرنے کے بجائے خود عملی نمونہ پیش کرے۔ چنانچہ اس نے اپنی ٹیم کے ساتھ کھانا کھانے کے بجائے جونیئر ملازمین کے ساتھ بیٹھنا شروع کیا اور ان کے درمیان گھل مل کر وقت گزارا۔ صرف ایک ہفتے کی اس عملی مثال نے اتنا اثر دکھایا جو برسوں کی تقریروں سے نہ ہو سکا۔

کیا عقل حاصل کی جا سکتی ہے؟ جی ہاں، اگر آپ کے پاس یہ جاننے کی حکمت ہے کہ آپ کو حکمت کی ضرورت ہے۔ علم حاصل کرنے کی صلاحیت، کمزوری کو قبول کرنے کی صلاحیت، تجسس اور سوال کرنے کی بجائے مسترد کرنے اور فرض کرنے کی صلاحیت وہی ہے جو حکمت کے سفر کی طرف لے جاتی ہے۔ جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ حکمت کا فن جہالت کو قبول کرنے اور تکبر کو رد کرنے کا فن ہے۔

کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025