کاروبار اور معیشت

لوتاہ کی بینک مکرمہ میں شیئر ہولڈنگ ایڈجسٹمنٹ کی تجویز

  • قانونی، اکاؤنٹنگ اور ریگولیٹری پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر تجویز کا غور سے جائزہ لیا جائے گا، بورڈ
شائع اپ ڈیٹ

بینک مکرمہ لمیٹڈ (بی ایم ایل) کو اس کے واحد اسپانسر شیئر ہولڈر ناصر عبداللہ حسین لوتاہ کی جانب سے ایک تجویز موصول ہوئی ہے جس میں بینک میں ان کے شیئر ہولڈنگ کو ایڈجسٹ کرنے کی تجویز دی گئی۔

بینک نے بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو اپنے نوٹس میں اس پیشرفت سے آگاہ کیا۔

یہ تجویز اس حالیہ منظوری کے بعد سامنے آئی ہے جو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بینک مکرمہ لمیٹڈ کے لیے اسٹریٹجک اسکیم آف ارینجمنٹ کی دی۔

نوٹس کے مطابق یہ سنگ میل بینک کی جاری سرمایہ کاری کے اقدامات میں ایک اہم کامیابی کی نمائندگی کرتا ہے اور کم از کم سرمائے کی ضرورت اور سرمایہ کی کفایت شعاری کے تناسب کو پورا کرنے کی جانب اس کی پیشرفت کو ظاہر کرتا ہے۔

اسکیم کے تحت لوتاہ کے پاس بینک کے 86.1 فیصد شیئرز تھے۔ بینک مکرمہ لمیٹڈ کے بورڈ کو اپنے خط میں انہوں نے اسکیم کے تحت اپنے لیے جاری کیے گئے شیئرز کی تعداد کو دوبارہ شمار کرنے کی تجویز دی جو بینک کی موجودہ شیئر قیمت 6.25 روپے کی بنیاد پر ہوگی جبکہ تب یہ شرح 2.14 روپے تھی جب سواپ ریشو طے کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال بینک کے شیئر کی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس کے پیش نظر، میں تجویز کرتا ہوں کہ بینک ایک ایسا طریقہ کار اختیار کرے جس کے تحت مجھے جاری کیے گئے شیئرز کی تعداد میں اس طرح ایڈجسٹمنٹ کی جائے کہ اضافی شیئرز کی تعداد بینک کے شیئر کی قیمت 6.25 روپے فی شیئر کی بنیاد پر شمار کی جائے۔

لوتاہ نے بی ایم ایل کو اپنے خط میں لکھا کہ یہ بینک اور اس کے دیگر شیئر ہولڈرز کے مجموعی مفاد میں فائدہ مند ہوگا۔

اس ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں میرے پاس بینک کے تقریباً 75.8 فیصد شیئرز ہونگے۔

بی ایم ایل کے بورڈ نے تصدیق کی کہ وہ اس تجویز کا غور سے جائزہ لے گا اور اس میں قانونی، اکاؤنٹنگ اور ریگولیٹری پہلوؤں کو مدنظر رکھے گا۔