ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار اور روسی وزیر خارجہ کا دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اظہارِ اطمینان
- پاکستانی وزیر خارجہ نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر تاجک اور ازبک رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں
ڈپٹی وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ کو روس، تاجکستان اور ازبکستان کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی تعاون کی ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا۔
وزیر خارجہ نے روسی وزیر خارجہ سے ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ (سی ایچ جی) کے اجلاس کے موقع پر کی، جو 17 سے 18 نومبر تک ماسکو میں منعقد ہوا۔
دفترِ خارجہ (ایف او) کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا۔
دونوں جانب سے تعلقات کی موجودہ مثبت پیش رفت پر بھرپور اطمینان ظاہر کیاگیا۔
ملاقات میں اسحاق ڈار نے دونوں ممالک کی قیادت کے اہم کردار اور دوطرفہ ادارہ جاتی نظام کو باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں بنیادی حیثیت کا حامل قرار دیا۔
مزید برآں دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اقوامِ متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت متعدد بین الاقوامی فورمز پر بہترین ہم آہنگی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انہوں نے اس تعاون کو دونوں ممالک کے مفاد میں مزید مضبوط بنانے کا عزم کیا۔
اسی دوران ڈپٹی وزیراعظم نے سربراہی اجلاس کے موقع پر تاجکستان کے وزیراعظم کوخیـر رسول زودا سے بھی ملاقات کی۔
اسحاق ڈار نے رسول زودا کو اگلے سی ایچ جی اجلاس کی سربراہی سنبھالنے پر مبارک باد دی اور مختلف شعبوں میں پاکستان اور تاجکستان کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، ساتھ ہی بین الاقوامی فورمز پر تعاون کو بھی فروغ دینے کی بات کی۔
مزید یہ کہ ازبکستان کے وزیراعظم عبداللہ اریپوف کے ساتھ ملاقات میں اسحاق ڈار نے پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات میں مثبت رفتار کو سراہا۔
دفتر خارجہ کے مطابق انہوں نے اعلیٰ سطح کے روابط اور ایس سی او سمیت کثیرالجہتی فورمز پر تعاون کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
اسی طرح وزیرِ خارجہ نے قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے غیر رسمی گفتگو بھی کی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی تعاون کی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا۔
اسحاق ڈار کا شنگھائی اسپرٹ سے عزم کا اعادہ
سی ایچ جی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی وزیراعظم نے اعتماد، برابری، باہمی فائدے اور مشترکہ ترقی پر مبنی شنگھائی اسپرٹ کے ساتھ پاکستان کی مضبوط وابستگی کا اعادہ کیا۔
انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ باہمی تجارت میں قومی کرنسیوں کے استعمال کے فروغ کی جانب اقدامات کریں اور ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک، ایس سی او ڈویلپمنٹ فنڈ اور سرمایہ کاری فنڈ کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔