پاکستان

بلیو اکانومی 150 ارب ڈالر تک پیداوار میں اضافہ کر سکتی ہے ، تجزیہ کار

حکومتی اقدامات قابل تعریف ، تین ڈیپ سی پورٹس کے نئے منصوبوں کا اعلان بڑی پیشرفت ہے ، عتیق الرحمن
شائع November 18, 2025 اپ ڈیٹ November 18, 2025 01:19pm

معاشی و مالیاتی تجزیہ کار عتیق الرحمٰن کے مطابق اگر پاکستان اپنی بلیو اکانومی کو جدید خطوط پر وسعت دے تو یہ سالانہ 100 سے 150 ارب ڈالر تک کی اقتصادی سرگرمی پیدا کر سکتی ہے۔ ایک تحقیقی تجویز میں انہوں نے کہا کہ یہ حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان کی سمندری صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے عملی کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز محمد جنید انور چوہدری اور حکومتِ پاکستان بندرگاہوں، شپنگ اور لاجسٹکس کے شعبوں میں قابلِ تعریف اقدامات کر رہے ہیں۔

خاص طور پر تین نئی ڈیپ سی پورٹس کے منصوبے کا اعلان ایک بڑی پیشرفت ہے، جس کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی ساحلی پٹی پر موزوں مقامات کی نشاندہی کرے گی۔ یہ اقدام طویل المدتی میری ٹائم ایکسپینشن پلان کی بنیاد رکھتا ہے۔

یہ پیشرفت عتیق الرحمٰن کی تحقیقی کاوش چھوٹی بندرگاہوں کی فوری ضرورت کی منظوری کے بعد سامنے آئی، جو ملک میں سمندری انفرااسٹرکچر کی وسعت کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ تجویز میں زور دیا گیا تھا کہ منی پورٹس اور نئی گہری بندرگاہوں کی تعمیر سے قومی تجارتی صلاحیت میں اضافہ ، پورٹ رش کم، بلیو اکانومی مضبوط اور پاکستان کو خطے میں ایک مسابقتی میری ٹائم حب بنانے میں مدد ملے گی۔

سماء پر مبنی معاشی سرگرمیوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1001 کلومیٹر طویل پاکستانی ساحل قدرتی وسائل، آبی حیات اور معدنیات کا قیمتی خزانہ ہے، جس کا موثر استعمال ملک کے لیے معاشی استحکام اور خطے سے جڑے تجارت و روابط میں اضافہ لا سکتا ہے۔