اداریہ

بجلی بل زوال کے عکاس

  • تازہ ترین رپورٹ میں سرکلر ڈیٹ میں صرف تین ماہ میں 79 ارب روپے کا اضافہ دکھایا گیا ہے، جس سے مجموعی حجم 1.7 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے
شائع November 18, 2025 اپ ڈیٹ November 18, 2025 12:46pm

سرکلر ڈیٹ بجلی کے شعبے کا آئینہ بن چکا ہے، جو نہ صرف نااہلی بلکہ ادارہ جاتی زوال کی عکاسی کرتا ہے۔ تازہ ترین سہ ماہی رپورٹ میں صرف تین ماہ میں 79 ارب روپے کا اضافہ دکھایا گیا ہے، جس سے مجموعی حجم 1.7 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے۔

پاور ڈویژن اسے موسمی یا عارضی قرار دیتا ہے، لیکن سطح کے نیچے نظر ڈالیں تو وہی پرانا مرض نظر آتا ہے، نااہلی، ناقص وصولیاں اور تقسیم کار کمپنیوں میں بدانتظامی جو نظام کو مسلسل نچوڑ رہی ہیں۔

حکومت اصرار کرتی ہے کہ نقصانات کم ہوئے ہیں، سبسڈیز بروقت فراہم ہو رہی ہیں، اور وصولیاں بہتر ہو رہی ہیں۔ تاہم، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی حالیہ سماعتیں مختلف کہانی بیان کرتی ہیں۔ ایک اجلاس میں، سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی کے اہلکار یہ وضاحت کرنے میں ناکام رہے کہ 4.6 ارب روپے کے ڈیٹیکشن بلز سے صرف 47 ملین روپے کی وصولی کیوں ہوئی۔

اس علاقے کے 70 فیصد سے زائد صارفین بغیر میٹر کے تھے، اور بعض ڈیٹیکشن بلز تو خالی پلاٹس کے لیے بھی جاری کیے گئے۔ یہ محاسبے کی غلطیاں نہیں بلکہ ادارہ جاتی زوال کی علامات ہیں۔ جب خود ریگولیٹرز ڈسکو کے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت پر شکوک ظاہر کرتے ہیں، تو یہ پیش رفت کے دعووں کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔

ہر چند ماہ بعد پاور ڈویژن تبدیلی کا وعدہ کرتا ہے اور ہر چند ماہ بعد اعداد و شمار بڑھ جاتے ہیں۔ سرکلر ڈیٹ صرف موسمی حالات یا بارش کی وجہ سے نہیں بڑھ رہا، بلکہ ان لوگوں کی وجہ سے بڑھ رہا ہے جو اسے روکنے کے ذمہ دار ہیں۔ تقسیم کار کمپنیاں بغیر مناسب آڈٹ، آزاد نگرانی یا قابل بھروسہ انتظامی اصلاحات کے کام کر رہی ہیں۔ یہ سرکاری بیل آؤٹس پر زندہ رہتی ہیں، نقصانات جمع کرتی ہیں اور انہیں مالی خسارے میں واپس شامل کرتی ہیں۔ یہ سلسلہ خود پائیدار ہے کیونکہ جوابدہی کبھی اس کے ڈیزائن کا حصہ نہیں رہی۔

نیپرا کی اپنی مایوسی بھی واضح ہے۔ جب ریگولیٹری اتھارٹی کا رکن کہتا ہے کہ اب وہ نہیں جانتا کہ ”کس دیوار سے اپنے سر ٹکرائیں“، تو یہ حکمرانی میں جمود کی عکاسی کرتا ہے۔ تکنیکی حل موجود ہیں — میٹرنگ، آٹومیشن، ڈیجیٹل بلنگ — لیکن مینیجرل صلاحیت اور اخلاقی قیادت کے بغیر یہ بے مقصد ہیں۔ ایک ایسا شعبہ جہاں اہلکار وصولی کے ڈیٹا میں جعلسازی کرتے ہیں یا خراب میٹرز کو نظر انداز کرتے ہیں، مالی استحکام قائم نہیں رکھ سکتا، چاہے کتنے ہی پالیسی اقدامات یا سبسڈیز کا اعلان کیوں نہ ہو۔

اس بحران کی سب سے نقصان دہ بات یہ ہے کہ یہ ہر قومی ترجیح کو پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ وزارتِ خزانہ نے رپورٹ کیا کہ پچھلے سال کے قرض کی ادائیگی کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ اور کمرشل قرض لینا پڑا۔ اس مشق نے وقتی طور پر سرکلر ڈیٹ کم دکھایا، لیکن بنیادی مسائل برقرار رہے۔ اب، جیسے ہی سرکلر ڈیٹ دوبارہ بڑھ رہا ہے، یہ واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان مزید قرض کے پیسے پر وقت نہیں گزار سکتا۔ ہر ایک روپیہ جو نقصان میں چلنے والی ڈسکو کو بچانے پر خرچ ہوتا ہے، وہ صحت، تعلیم یا ترقی سے لیا جا رہا ہے۔

پہلے بھی کہا جا چکا ہے اور دوبارہ کہنا ضروری ہے: اصلاح صرف ظاہری نہیں رہ سکتی۔ شعبے کو حقیقی طور پر پیشہ ورانہ انتظام کی ضرورت ہے جو سیاسی مداخلت سے آزاد ہو اور قابل پیمائش نتائج کے لیے جوابدہ ہو۔ ریگولیٹر کو بھی پابندی نافذ کرنے کا اختیار ہونا چاہیے نہ کہ صرف مایوسی درج کرنے کا۔

سرکلر ڈیٹ صرف ناکامی کا پیمانہ نہیں بلکہ متعدد چھوٹی ناکامیوں کا مجموعہ ہے — ناقص حکمرانی، کرپشن اور لاپرواہی — جو دہائیوں میں دہرائی گئی ہیں۔ یہی ثقافت بجلی کی تقسیم کے علاوہ ہر شعبے میں بھی پھیلی ہے جہاں ریاستی ملکیت کمزور جوابدہی سے ملتی ہے۔ پاکستان کا اقتصادی خسارہ ایک عمل درآمدی خسارے سے شروع ہوتا ہے، اور اس کی شروعات نااہلی سے ہوتی ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اعداد مزید بڑھیں گے اور بہانے مزید تخلیقی ہوں گے۔ حکومت سہ ماہی اضافے کو موسمی اتار چڑھاؤ کہہ سکتی ہے، لیکن وہ لوگ جو ناقابل اعتماد بجلی کے لیے زیادہ بل ادا کرتے ہیں، ایک مستقل بحران دیکھ رہے ہیں۔ جب تک نااہلی کی جگہ صلاحیت اور بہانوں کی جگہ جوابدہی نہیں آتی، ہر رپورٹ ایک ہی کہانی بیان کرے گی: زوال موجود ہے اور نقصانات بڑھتے جا رہے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025