دنیا

مدینہ کے قریب بھارتی مسلمانوں کی بس کے ساتھ حادثہ

حادثے میں درجنوں ہلاکتوں کا خدشہ ہے، میڈیا رپورٹ
شائع اپ ڈیٹ

سعودی عرب میں بھارتی سفارتخانے نے پیر کے روز بتایا کہ مدینہ کے قریب بھارتی مسلمانوں کے قافلے کی بس کے ساتھ المناک حادثہ پیش آیا، جس میں درجنوں ہلاکتوں کا خدشہ ہے، جس پر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے افسوس کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم نے ایکس پر لکھا کہ مدینہ میں بھارتی شہریوں کے ساتھ حادثے پر گہرا افسوس ہوا۔ میری دعائیں اُن خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں دعا گو ہوں کہ زخمی افراد جلد صحتیاب ہوں۔ ریاض میں ہمارا سفارتخانہ اور جدہ میں قونصل خانہ ہر ممکن مدد فراہم کر رہا ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حادثے میں درجنوں افراد ہلاک ہو سکتے ہیں، تاہم حکام نے ابھی تک ہلاکتوں کی حتمی تعداد نہیں بتائی۔

سعودی عرب میں مقدس مقامات کے گرد زائرین کی نقل و حمل اکثر خطرناک ثابت ہوتی رہی ہے، خاص طور پر حج کے دوران، جب سڑکیں بھیڑ بھاڑ سے بھری ہوتی ہیں اور بسوں کی وجہ سے ٹریفک جام لگ جاتا ہے۔

اس کے علاوہ، لاکھوں لوگ سعودی عرب میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے بھی آتے ہیں، جو حج کے علاوہ کسی اور وقت ہوتا ہے۔

زیارتیں سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے سیاحت کے شعبے کا لازمی حصہ ہیں، جس کے ذریعے حکام چاہتے ہیں کہ معیشت کو فوسل فیولز پر انحصار کم کر کے متنوع بنایا جائے۔

خلیجی ریاست میں دو ملین سے زائد بھارتی شہری مقیم ہیں جو طویل عرصے سے وہاں کی محنت کش مارکیٹ میں اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں، کئی بڑے منصوبے تعمیر کرنے کے ساتھ ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلات بھیجتے ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب اور بھارت کے تعلقات دہائیوں سے قریبی رہے ہیں۔ بھارت کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت میں پیٹرولیم کی درآمد پر بہت انحصار ہے، اور سعودی عرب بھارت کا تیسرا سب سے بڑا سپلائر ہے۔