کاروبار اور معیشت

مجوزہ اضافی بجلی کھپت پیکیج غیر موثر قرار ، صدر بی ایم پی کی تنقید

  • صنعتی صارفین پہلے ہی 38 روپے فی یونٹ تک ادائیگی کر رہے ، برآمدات کی بحالی کیلئے بنیادی ٹیرف میں کمی ضروری ہے ، انجم نثار
شائع November 17, 2025 اپ ڈیٹ November 17, 2025 12:44pm

چیئرمین فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بزنس مین پینل (بی ایم پی) میاں انجم نثار نے حکومت کے مجوزہ اضافے پر مبنی بجلی کھپت پیکیج پر شدید تنقید کی ہے اور اسے غیر مؤثر، ناقص ڈیزائن اور صنعتی شعبے کو بحال کرنے میں ناکام قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی زمینی حقائق سے لاعلمی کی عکاس ہے اور وہ بنیادی مسائل حل نہیں کرتی جو پاکستان میں بجلی کے ٹیرف کو خطے میں سب سے زیادہ بنا دیتے ہیں۔

پاور ڈویژن نے نپرا کے سامنے تجویز پیش کی تھی کہ صنعتی صارفین کے لیے اضافی کھپت پر 22.98 روپے فی یونٹ کی خصوصی رعایتی شرح دی جائے، جس کا مقصد توانائی کے استعمال، صنعتی ترقی اور قومی گرڈ کی استحکام کو فروغ دینا ہے۔

انجم نثار نے کہا کہ جب صنعتی صارفین پہلے ہی 34 سے 38 روپے فی یونٹ ادا کر رہے ہیں تو اضافی کھپت پر چھوٹ کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے زور دیا کہ پیچیدہ اور علامتی اسکیمیں متعارف کرانے کے بجائے مینوفیکچرنگ اور برآمدات کی بحالی کے لیے بنیادی ٹیرف کم کرنا ضروری ہے ۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پاکستان کے صنعتی صارفین خطے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں، جس سے عالمی مارکیٹ میں مسابقت مشکل ہو جاتی ہے۔

میاں انجم نثار نے حکومت پر زور دیا کہ صنعتی شعبے کو غیر منصفانہ سبسڈیز اور کراس سبسڈائز ختم کر کے سسٹم کو مؤثر اور مسابقتی بنایا جائے۔