دنیا

پاکستان کی سرحد بند ، افغانستان نے تجارتی راہیں ایران کی طرف موڑ دیں

افغانستان کے فیصلے سے پاکستان کو کوئی اقتصادی نقصان نہیں ہوگا ، وزیر دفاع خواجہ آصف
شائع November 14, 2025 اپ ڈیٹ November 14, 2025 07:45pm

سرحد سے جکڑا ہوا افغانستان ایران اور وسطی ایشیا کے تجارتی راستوں پر زیادہ انحصار کر رہا ہے ، تاکہ پاکستان پر انحصار کم کیا جا سکے۔ پڑوسیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور حالیہ ہفتوں میں ان کی سرحد بند رہی ہے۔

پاکستان کی بندرگاہوں پر افغانستان کا انحصار طویل عرصے سے اسلام آباد کو کابل پر دباؤ ڈالنے کا موقع دیتا رہا ہے، خاص طور پر اُن عسکریت پسندوں کے حوالے سے جو سرحد پار پناہ لیتے ہیں۔

تاہم افغانستان ایران کی سہولتوں کا زیادہ استعمال کر کے اپنا مال بھارت کے تعاون یافتہ چابہار بندرگاہ تک منتقل کر رہا ہے، جس سے پاکستان کو بائی پاس کیا جا رہا ہے اور بار بار ہونے والی سرحدی اور ٹرانزٹ رکاوٹوں سے بچا جا رہا ہے۔

افغان وزارت تجارت کے ترجمان عبدالسلام جواد اخوندزادہ نے رائٹرز کو بتایا کہ گزشتہ چھ ماہ میں ہمارا ایران کے ساتھ تجارتی حجم 1.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیاہے ، جو پاکستان کے ساتھ 1.1 ارب ڈالر کے تبادلے سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ چابہار کی سہولیات نے تاخیر کم کر دی ہے اور تاجروں کو اعتماد دیا ہے کہ سرحدیں بند ہونے پر بھی شپمنٹس رکیں گی نہیں۔

تین ماہ کی مدت

افغانستان کے نائب وزیر اعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر نے کہا کہ تاجروں کے پاس پاکستان میں معاہدے مکمل کرنے اور دیگر راستوں کی طرف منتقل ہونے کے لیے تین ماہ کی مدت ہے۔

انہوں نے اسلام آباد پر تجارتی اور انسانی معاملات کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مقررہ مدت کے بعد افغانستان تنازعات میں ثالثی نہیں کرے گا اور وزارتوں کو ہدایت دی کہ پاکستانی ادویات کی کلیئرنس روک دی جائے، کیونکہ ان یہ کم معیاری ہیں۔

سب سے بڑی تبدیلی چابہار کی طرف ہے، جسے 2017 سے ایران اور بھارت کے ساتھ ٹرانزٹ معاہدے کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے۔ افغان حکام کے مطابق کسٹمز اور اسٹوریج میں رعایتی مراعات اور تیز رفتار ہینڈلنگ زیادہ مال جنوب کی طرف کھینچ رہی ہیں۔

اخوندزادہ نے بتایا کہ ایران نے جدید آلات اور ایکس رے اسکینرز نصب کیے ہیں، جبکہ افغان مال کے لیے پورٹ ٹیرِف میں 30 فیصد کمی، اسٹوریج فیس میں 75 فیصد رعایت اور ڈاکنگ چارجز میں 55 فیصد چھوٹ فراہم کی ہے۔

پاکستان افغان فیصلے سے متاثر نہیں

وزیر دفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز کو بتایا کہ افغانستان کے فیصلے سے پاکستان کو کوئی اقتصادی نقصان نہیں ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کسی بھی بندرگاہ یا ملک کے ذریعے تجارت کر سکتا ہے۔

وزیر تجارت جام کمال خان نے رائٹرز کو بتایا کہ ہم سیکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔

بھارت نے طالبان کی حکومت کے ساتھ تعلقات بڑھائے ہیں اور عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی کی میزبانی کی ہے اور انسانی امداد میں اضافہ کیا ہے۔

بھارت چابہار کے اہم ٹرمینلز چلاتا ہے، جسے وہ افغانستان اور وسطی ایشیا سے جڑنے کے لیے اسٹریٹجک لنک کے طور پر دیکھتا ہے۔ اکتوبر میں امریکہ نے بھارت کو بندرگاہ چلانے کے لیے چھ ماہ کی پابندی سے استثناء دیا۔

وسطی ایشیا کے راستے بڑھ رہے ہیں

افغانستان نے ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان کے راستوں کے ذریعے شپمنٹس بڑھا دی ہیں، وہ راستے جو پاکستان کے مقابلے میں تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔

اخوندزادہ نے نئے ٹرانزٹ معاہدے، کم سرحدی اخراجات اور ملّک و زاہدان میں دفاتر کو افغانستان کی تجارت کے لیے ایران کے اہم سرحدی نقاط کے طور پر نمایاں کیا۔

تاہم پاکستان اب بھی سمندر تک سب سے تیز ترین راستہ ہے، جہاں ٹرک صرف تین دن میں جنوبی بندرگاہ کراچی پہنچ جاتے ہیں۔پاکستان کی افغانستان کو برآمدات 2024 میں تقریباً 1.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ سرحدی بندشیں عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے ہیں، جبکہ کابل کا کہناہے کہ وہ عسکریت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم نہیں کر رہا۔