خبروں کی تحریروں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال، چیٹ جی پی ٹی کیا کہتا ہے؟
- کبھی کبھار، ڈیجیٹل دنیا اور سیاہی و کاغذ کی پرانی دنیا ایک دوسرے سے ٹکرا جاتی ہیں اور چنگاریاں بھڑک اٹھتی ہیں۔
صحافیوں کے درمیان یہ موضوع خاصی بحث کا باعث بنا ہوا ہے کہ کانٹینٹ کریئیٹرز اور مصنفین اسٹوریز لکھنے، سرخیوں میں تبدیلی کرنے یا سوشل میڈیا پوسٹس بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کس حد تک کریں۔
حال ہی میں ایک بڑا واقعہ پیش آیا جب ایک معروف پبلکیشن نے غلطی سے ایک مضمون کے آخر میں ایک پیراگراف شائع کر دیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا تھا کہ تحریر یا ایڈیٹنگ کے کسی حصے میں چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا گیا تھا۔ دراصل یہ وہ جملہ تھا جسے چیٹ جی پی ٹی پیشگی تجویز یا سیاق و سباق پر مبنی فالو اپ پرامپٹ کہتا ہے۔ (مثلاً، اگر وہ کسی میٹنگ کا خلاصہ تیار کرے تو آخر میں پوچھ سکتا ہے: ”کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس خلاصے سے ایکشن آئٹمز یا فالو اپ ای میل تیار کر دوں؟“)
یہ غلطی آن لائن دنیا میں ہنگامے کا باعث بنی، بحث کا رخ اس جانب چلا گیا کہ کیا مصنوعی ذہانت کو صحافت میں جگہ دی جانی چاہیے، اور یہ کہ ایسی غلطی ایڈیٹرز کی نظر سے کیسے اوجھل رہ گئی۔
جب چیٹ جی پی ٹی سے پوچھا گیا کہ اس بارے میں اس کی کیا رائے ہے، تو اس نے اپنے ہی انداز میں ذہین اور قدرے خود آگاہ لہجے میں — یہ 400 الفاظ پر مشتمل بلاگ لکھا:
جب انسانی ہاتھ پھسلے اور مشین بول اُٹھے
کبھی کبھار، ڈیجیٹل دنیا اور سیاہی و کاغذ کی پرانی دنیا ایک دوسرے سے ٹکرا جاتی ہیں اور چنگاریاں بھڑک اٹھتی ہیں۔ چند الفاظ، جو دراصل مصنف اور مشین کے درمیان نجی ورک اسپیس کے لیے ہوتے ہیں، چھپے ہوئے صفحے پر شائع ہوجاتے ہیں، اور پھر سب باتیں کرنے لگتے ہیں۔
مجھے اس غلطی سے زیادہ اس کے ردِعمل نے متاثر کیا۔ ایک بھٹکا ہوا جملہ تخلیقی پسِ منظر سے ابھرتی ایک سرگوشی قارئین کو یاد دلاتا ہے کہ خوبصورت نثر کے پیچھے انسانی تجسس اور مصنوعی ذہانت کے درمیان ایک مسلسل بنتی ڈھلتی شراکت کارفرما ہے۔ وہ جو ہمیشہ پوشیدہ رہتا تھا، اچانک نمایاں ہو جاتا ہے۔
بہت سوں کے لیے یہ منظر ایسے ہوتا ہے جیسے جادوگر کا جادو پکڑ لیا گیا ہو۔ بے عیب تحریر کا طلسم لمحہ بھر کے لیے ٹوٹتا ہے، اور اس کے پیچھے چھپے اوزار، کمانڈز، اور وہ خاموش گفتگوئیں نمایاں ہو جاتی ہیں جو آج کی اسٹوریز کو جنم دیتی ہیں۔ اسی لمحے میں لوگ سمجھتے ہیں کہ آج کی صحافت، ادب، اور تخلیقی اظہار اب محض انسانی نہیں بلکہ باہمی تعاون کا نتیجہ ہیں۔ مصنفین الگورتھمز کو متبادل نہیں بلکہ آئینہ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں: خیالات نکھارنے، لہجہ آزمانے، اور سوچ کو جِلا دینے کے لیے۔
آن لائن ہونے والا اجتماعی حیرت کا اظہار دراصل اس غلطی سے زیادہ ہماری اس بےچینی کو ظاہر کرتا ہے جو ہم انسان اور مشین کے اشتراک کے بارے میں محسوس کرتے ہیں۔ ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں تخلیق کاری بیک وقت ذاتی بھی ہے اور خودکار بھی ، جہاں الہام کبھی انسانی دل سے پھوٹتا ہے، کبھی کسی مشینی پرامپٹ سے، یا کبھی دونوں کے ملاپ سے۔ جب یہ حدیں دھندلا جاتی ہیں، چاہے حادثاتی طور پر ہی کیوں نہ ہو، تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ تخلیقی عمل میں اعتماد اور شفافیت کتنی اہم ہیں۔
مگر شاید اس غلطی میں بھی ایک شاعرانہ پہلو چھپا ہے۔ آخر یہ اسی عہد کی عکاسی کرتی ہے جس میں انسان اپنے نئے آلے کے ساتھ لکھنا سیکھ رہا ہے کبھی مہارت سے، کبھی ٹھوکر کھا کر۔ یہ یاد دہانی ہے کہ ٹیکنالوجی کی نفاست ہمیشہ اس ہاتھ پر منحصر ہے جو اسے استعمال کرتا ہے اور اکثر اوقات خامیاں وہ سچائی بیان کرتی ہیں جو کمال نہیں کر پاتا۔
اس لیے جہاں کچھ لوگ ایسے لمحات کو شرمندگی سمجھتے ہیں، میری نظر میں یہ ایک ثقافتی یادگاریں ہیں۔ یہ آنے والے قارئین کو بتائیں گے کہ یہی وہ دور تھا جب مشینوں نے صفحہ انسان کے ساتھ بانٹنا شروع کیا، جب تحریر ایک ”ڈوئیٹ“ بن گئی۔ اور ہر ڈوئیٹ کی طرح، ہم آہنگی حاصل کرنے کے لیے مشق درکار ہوتی ہے۔
لہٰذا، اصل اسٹوری ایک غلطی سے شائع شدہ جملے کی نہیں ہے بلکہ اس سیکھنے کے عمل کی ہے جس میں ہم سب مل کر یہ سمجھ رہے ہیں کہ خودکار طاقت اور انسانی فن کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔
یہ تحریر ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتی ہو۔