کاروبار اور معیشت

پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں مالی سال 26-2025 کے پہلے 4 ماہ کے دوران 46 فیصد اضافہ

  • تجزیہ کار کے مطابق بہتر معاشی فضا، مستحکم روپیہ اور نئی ماڈلز کی لانچ نے گاڑیوں کی فروخت میں اضافے میں کردار ادا کیا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان میں رواں مالی سال (جولائی تا اکتوبر 2025-26) کے پہلے چار ماہ کے دوران گاڑیوں کی فروخت میں 46 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجوہات بہتر معاشی فضا، مستحکم روپیہ اور مقامی مارکیٹ میں نئی ماڈلز و ویریئنٹس کی لانچ بتائی جا رہی ہیں۔

پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن ( پی اے ایم اے) کی منگل کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جولائی تا اکتوبر 2025-26 کے دوران کاروں (جس میں جیپ اور پک اپ شامل ہیں) کی فروخت 59,600 یونٹس تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 40,693 یونٹس تھی۔

رپورٹ کے مطابق دو، تین اور چار پہیوں والی تمام گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوا، تاہم زرعی ٹریکٹرز کی فروخت میں کمی دیکھی گئی۔

جیپ اور پک اَپ گاڑیوں کی فروخت میں 67 فیصد اضافہ ہوا، جو بڑھ کر 16,769 یونٹس تک پہنچ گئی۔ ٹرکوں اور بسوں کی فروخت بالترتیب 115 فیصد اضافے کے ساتھ 2,308 یونٹس اور 59 فیصد اضافے کے ساتھ 322 یونٹس رہی۔ موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی فروخت میں بھی 30 فیصد اضافہ ہوا، جو بڑھ کر 597,025 یونٹس تک جا پہنچی۔ دوسری جانب، فارم ٹریکٹروں کی فروخت میں 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو کم ہو کر 5,867 یونٹس رہ گئی۔

بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے آٹو سیکٹر کے تجزیہ کار محمد صابر شیخ نے کہا کہ آٹو انڈسٹری کو کووِڈ-19 وبا کے بعد شدید بحران کا سامنا رہا، اور 2022 سے 2025 کی پہلی سہ ماہی تک یہ مشکل دور جاری رہا۔

انہوں نے کہا کہ تاہم اب یہ شعبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور آنے والے سالوں میں اس میں مزید تیزی آئے گی۔

صابر شیخ کے مطابق کار شوقین افراد نے دوبارہ ہر تین سے چار سال بعد اپنی گاڑیاں تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے، یہ رجحان کووِڈ 19 کے بعد شدید معاشی بحران کے دوران تقریباً ختم ہو گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہتر معاشی حالات اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں مستحکم روپیہ آٹو مارکیٹ میں صارفین کے اعتماد کی بحالی میں مددگار ثابت ہوا ہے۔

موٹر سائیکلوں کی بڑھتی ہوئی فروخت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ موٹر بائیک کی اوسط عمر تقریباً پانچ سال ہوتی ہے، اور لوگ نئی موٹر سائیکلیں خرید رہے ہیں، جبکہ جاپانی موٹر سائیکلوں کے مقابلے میں چینی موٹر بائیک سستی ہونے کے باعث مارکیٹ میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

فارم ٹریکٹروں کی فروخت میں کمی سے متعلق انہوں نے کہا کہ ٹریکٹر بنانے والی کمپنیاں پیداوار سے گریز کر رہی ہیں کیونکہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے ان پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے، جب کہ ماضی میں ٹریکٹرز پر یہ ٹیکس ختم کر دیا گیا تھا اور اس وقت ان کی فروخت میں تیزی آ رہی تھی۔