اسلام آباد دھماکے میں 12 افراد جاں بحق ، 36 زخمی
- دھماکا جی 11 علاقے میں ضلعی و سیشن عدالت کی عمارت کے باہر ہوا
- واقعے کی مختلف پہلوئوں سے تفتیش کی جاری ہے، وزیر داخلہ
اسلام آباد کے جی-11 علاقے میں منگل کو ضلعی و سیشن عدالت کے مرکزی دروازے پر دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہو گئے۔
آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ ایک پولیس اہلکار نے روئٹرزکو بتایا کہ ہم اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ یہ کس نوعیت کا دھماکہ تھا۔ ہم اپنی فرانزک ٹیم کی رپورٹ ملنے کے بعد مزید تفصیلات فراہم کرنے کے قابل ہوں گے۔ بعد ازاں، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حملہ آور پیدل عدالت کی عمارت میں داخل ہونا چاہتا تھا، تاہم اس نے باہر ایک پولیس گاڑی کے قریب 10 سے 15 منٹ تک انتظار کرنے کے بعد خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ یہ کوئی عام دھماکہ نہیں تھا، یہ اسلام آباد کے اندر ہوا ہے۔ دریں اثنا صدر آصف علی زرداری نے واقعے کو خودکش دھماکہ قرار دیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی اور شہدا کے لیے دعائے مغفرت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی پراکسی گروہوں کے پاکستان کے نہتے شہریوں پر دہشت گرد حملے قابلِ مذمت ہیں۔ وزیر اعظم نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ مزید برآں مزید برآں وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اس واقعے کو ویک اپ کال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم حالت جنگ میں ہیں۔ انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ جو بھی یہ سوچتا ہے کہ پاکستان آرمی یہ جنگ پاک افغان سرحدی علاقے اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں لڑ رہی ہے لیکن آج کا خودکش حملہ اس کیلئے ایک ویک اپ کال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ماحول میں کابل کے حکمرانوں کے ساتھ کامیاب مذاکرات کی بڑی امید رکھنا بے سود ہوگا۔