اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات کے باوجود ٹیکس دہندگان آرڈر شیٹ اندراجات تک رسائی سے محروم
- اقدام اعلیٰ عدلیہ کے پابند فیصلوں کی براہِ راست خلاف ورزی ہے، وحید شہزاد بٹ
اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مبینہ طور پر ٹیکس دہندگان کو ان کے ٹیکس اسسمنٹ کارروائیوں سے متعلق آرڈر شیٹس کے اندراجات تک رسائی سے محروم کر دیا ہے اور ایسے سرکاری ریکارڈ کو متاثرہ ٹیکس دہندگان کے لیے ناقابلِ رسائی قرار دے دیا ہے۔
ٹیکس وکیل وحید شہزاد بٹ نے اس اقدام کو اعلیٰ عدلیہ کے پابند فیصلوں کی براہِ راست خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مشہور مقدمات جیسے مختار احمد علی بمقابلہ رجسٹرار سپریم کورٹ (2023 ایس سی پی 312)، وحید شہزاد بٹ بمقابلہ وفاق پاکستان (پی ایل ڈی 2016 ایل اے ایچ 872)، اور اسپرنٹ آئل بمقابلہ فیڈرل ٹیکس اومبڈسمین (پی-3346/2024) کا حوالہ دیا۔
آرڈر یا منٹ شیٹس تک رسائی سے انکار نہ صرف عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایف بی آر کی اپنی انتظامی ہدایات کی بھی نفی کرتا ہے جو دہائیوں قبل جاری کی گئی تھیں، جیسے کہ سرکلر-لیٹر نمبر 3(9)آئی ٹی -آئی وی/78 مورخہ 28 مارچ 1978 اور سرکلر نمبر 15 مورخہ 8 اکتوبر 1958، جو واضح طور پر ٹیکس دہندگان کو ایسے ریکارڈ کا معائنہ کرنے اور کاپی حاصل کرنے کا حق دیتے ہیں۔ وحید شہزاد بٹ کے مطابق، ایف بی ار میں قانون پر عمل نہیں ہو رہا اور اسے بند دکان کی صورتحال قرار دیا جا سکتا ہے۔
ان قانونی اور انتظامی احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے ایف بی آر کے فیلڈ ادارے قانون کے تحت بدنیتی سے کام کر رہے ہیں اور صرف وزیراعظم کو متاثر کرنے کے لیے فرضی کارکردگی کا تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
قانونی ماہرین اس پیش رفت کو عدلیہ کی بالادستی اور آئین کے آرٹیکل 19A کے تحت ٹیکس دہندگان کے معلومات تک دسترس کے آئینی حق کے لیے سنگین چیلنج قرار دیتے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ مسئلہ قریبی دنوں میں نگرانی کرنے والے اداروں اور عدالتی فورمز کی توجہ حاصل کرے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025