جنوبی ایشیا میں ایک نیا باب کھل رہا ہے، ایسے وقت جب ’’پاکستان اور بنگلہ دیش دوبارہ قریب آرہے ہیں۔‘‘ ایک زمانہ تھا جب پاکستان برصغیر کی وسعتوں تک پھیلا ہوا تھا، اگرچہ بھارت کی ایک ہزار میل طویل سرزمین نے اسے دو حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا، مگر دونوں حصے ایک ہی پرچم تلے متحد تھے۔
1947 سے 1971 تک، پاکستان کے مشرقی اور مغربی بازو ایک ہی قوم تھے، ایمان کے رشتے میں بندھے ہوئے، مگر زبان، جغرافیہ اور سیاست نے انہیں جدا رکھا۔ اتحاد کا خواب جلد ہی مایوسی میں بدل گیا، اور بالآخر جنوبی ایشیا کی سب سے تکلیف دہ جدائیوں میں سے ایک واقعہ رونما ہوا: بنگلہ دیش کا قیام۔
تاہم رسمی سرد مہری کے پس منظر میں ہمیشہ ایک ثقافتی گرمجوشی موجود رہی۔ عوامی روابط، طلبہ کے تبادلے اور کاروباری دلچسپی کسی نہ کسی شکل میں جاری رہی، اگرچہ خاموشی سے۔ دونوں ممالک کی نئی نسلیں ماضی کو رکاوٹ نہیں بلکہ سبق کے طور پر دیکھتی ہیں۔ ان دونوں قوموں کے درمیان مستقبل کے تعلقات اسی نوجوان سوچ سے آگے بڑھیں گے۔
تقریباً چوّن (54) برس بعد، پاکستان اور بنگلہ دیش ماضی سے آگے بڑھ کر مشترکہ ورثے اور تعاون کے نئے امکانات تلاش کر رہے ہیں، ایک بدلتے ہوئے جنوبی ایشیا میں۔ یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں حالیہ گرمجوشی محض ایک معمولی سفارتی بحالی نہیں، بلکہ ایک وسیع تر علاقائی ازسرِنو ترتیب کی عکاسی کرتی ہے۔ ڈھاکا نے، بھارت سے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے، اپنی خارجہ پالیسی میں تنوع لانا شروع کر دیا ہے۔ چین، جاپان، مشرقِ وسطیٰ اور اب پاکستان کے ساتھ اس کا بڑھتا ہوا رابطہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ بنگلہ دیش اپنے مفادات کے توازن کے لیے ایک عملی اور حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی اپنا رہا ہے۔
اسلام آباد نے بھی یہ تسلیم کر لیا ہے کہ خطے میں مؤثر روابط بنگلہ دیش کو نظرانداز کر کے ممکن نہیں، ایک ایسا ملک جو آبادی کے لحاظ سے دنیا میں آٹھویں نمبر پر ہے اور تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی قوت بن چکا ہے۔
دونوں ممالک نے مختلف سطحوں پر سفارتی مکالمہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ تجارتی وفود اور کاروباری مشن ٹیکسٹائل، دواسازی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دفاعی ضروریات اور خطے کے جغرافیائی و سیاسی منظرنامے کو ہم آہنگ کرنے کے لیے اسٹریٹجک مذاکرات بھی جاری ہیں۔
علامتی طور پر، دونوں ممالک اب مشترکہ عقیدے، ثقافت اور ورثے پر زور دے رہے ہیں، اور “ایک قوم، دو ریاستیں” کے تصور کو اجاگر کر رہے ہیں۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تازہ دم تعلقات محض دوطرفہ خیرسگالی سے کہیں زیادہ اثرات رکھتے ہیں۔ یہ جنوبی ایشیا کے اس توازن کو بتدریج تبدیل کر رہے ہیں جو طویل عرصے سے بھارت کے غلبے میں رہا ہے۔
دہائیوں تک نئی دہلی کو ڈھاکا میں تقریباً مکمل اسٹریٹجک اثر حاصل رہا، لیکن جیسے جیسے بنگلہ دیش اپنے تعلقات میں تنوع لا رہا ہے، پاکستان کی نئی سفارتی سرگرمیاں خطے میں ایک نیا علاقائی توازن پیدا کر سکتی ہیں، ایسا توازن جو جنوبی ایشیا کو ایک ملک کی بالادستی سے ہٹا کر زیادہ متوازن سمت میں لے جائے گا۔
مزید یہ کہ چین کا کردار اس پورے منظرنامے میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش، دونوں ہی بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو ( بی آر آئی) کے اہم شراکت دار ہیں۔ گوادر، چٹاگانگ اور دیگر بندرگاہوں کے درمیان بہتر رابطے مستقبل میں ایسے بین ال علاقائی تجارتی راستوں کی راہ ہموار کر سکتے ہیں جو جنوبی ایشیا کو وسطی اور مشرقی ایشیا سے جوڑ دیں۔افغانستان میں استحکام اور ایران کی خطے میں دوبارہ شمولیت پاکستان کو جنوبی اور مغربی ایشیا کے درمیان قدرتی راہداری بنا سکتی ہے، ایک ایسا راستہ جس سے بنگلہ دیش اور اس کے ہمسایہ ممالک نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
اس سارے عمل میں جنوبی ایشیا کے لیے بھی ایک سبق پوشیدہ ہے۔ پاکستان–بنگلہ دیش قربت دراصل خطے کے مستقبل کے لیے ایک عملی ازسرِنو آغاز کی علامت ہے۔ دہائیوں سے برصغیر کی چھوٹی ریاستیں، نیپال، بھوٹان، مالدیپ اور یہاں تک کہ سری لنکا — اپنی اسٹریٹجک خودمختاری منوانے کی جدوجہد کرتی آئی ہیں، کیونکہ ان کے تجارتی راستے، توانائی کے ڈھانچے اور خارجہ پالیسیاں اکثر نئی دہلی کی ترجیحات سے منسلک رہیں۔جنوبی ایشیا کو اپنے ماضی کا قیدی نہیں رہنا چاہیے۔ یہ خطہ عملیت، رابطہ کاری اور مشترکہ خوشحالی کے ذریعے اپنی نئی شناخت تشکیل دے سکتا ہے، ایک ایسا جنوبی ایشیا جو بھارت کے سیاسی و معاشی غلبے سے نکل کر زیادہ متوازن، متحرک اور باہمی مفادات پر مبنی ہو۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کا باہمی فہم خطے میں تعاون کا ایک متبادل وژن پیش کرتا ہے، ایسا وژن جو بالادستی کے بجائے باہمی مفاد اور تعاون پر مبنی ہے۔ اگر ڈھاکا اور اسلام آباد اپنے ہنگامہ خیز ماضی کے باوجود حقیقت پسندانہ طور پر تعاون کر سکتے ہیں، تو یہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے کہ علاقائی تعلقات تاریخی بوجھ یا دباؤ کے بجائے باہمی مفاد کی بنیاد پر تشکیل دیے جا سکتے ہیں۔
نیپال اور بھوٹان کے لیے یہ نئی تجارتی اور رابطہ کاری کے امکانات کھول سکتا ہے۔ پاکستان–بنگلہ دیش محور، جو چین اور وسطی ایشیا کے وسیع تر راہداری نیٹ ورک سے جڑ سکتا ہے، مستقبل میں “افقی ایشیا” کے ایک ایسے معاشی ڈھانچے کی بنیاد رکھ سکتا ہے جو خلیجِ بنگال کو بحیرہ عرب سے منسلک کرے — یوں خطے کا انحصار ایک ہی ملک کی راہداریوں پر کم ہو گا اور برآمدی مواقع میں تنوع پیدا ہو گا۔
اقتصادی لحاظ سے، اگر پاکستان اور بنگلہ دیش شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او ) کے تحت نئے تجارتی فریم ورکز کی قیادت کریں تو جنوبی ایشیا کی چھوٹی معیشتوں کو اندرونی علاقائی تجارت سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس طرح بھوٹان کی پن بجلی، نیپال کی زرعی مصنوعات اور سری لنکا کی اشیا کو ان منڈیوں تک رسائی مل سکتی ہے جو اب تک سیاسی طور پر دور، مگر معاشی لحاظ سے قابلِ رسائی رہی ہیں۔
علاوہ ازیں یہ بڑھتی ہوئی علاقائی رابطہ کاری عالمی رجحان ”منی لیٹرل ازم“ سے بھی ہم آہنگ ہے، یعنی بڑے اور سخت بلاکوں کے بجائے چھوٹے، مفاد پر مبنی گروپس۔ پاکستان–بنگلہ دیش قربت ایک نئے جنوبی ایشیائی منی لیٹرل نیٹ ورک کو جنم دے سکتی ہے، جس میں نیپال، سری لنکا اور مالدیپ جیسے ممالک شامل ہوں — جو ماحولیاتی تحفظ، ڈیجیٹل تجارت، سمندری سلامتی اور غذائی سپلائی چینز پر مشترکہ کام کریں۔
مختصر یہ کہ، جیسے جیسے پاکستان اور بنگلہ دیش اپنے تعلقات کی نئی پلیں تعمیر کر رہے ہیں، وہ ساتھ ہی جنوبی ایشیا کا سیاسی نقشہ بھی ازسرِنو ترتیب دے رہے ہیں۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025