دنیا

2025 میں افغانستان میں افیون کی کاشت میں 20 فیصد کمی ہوگئی، اقوام متحدہ

  • افغانستان، جو طویل عرصے سے دنیا کا سب سے بڑا افیون پیدا کرنے والا ملک رہا ہے
شائع November 6, 2025 اپ ڈیٹ November 6, 2025 11:40am

اقوامِ متحدہ کے منشیات و جرائم کے ادارے (یو این او ڈی سی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں افیون کی کاشت کے رقبے میں رواں سال 20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو 2023 میں طالبان کی جانب سے منشیات کی کاشت پر پابندی کے بعد ہونے والی بڑی گراوٹ کا تسلسل ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان، جو طویل عرصے سے دنیا کا سب سے بڑا افیون پیدا کرنے والا ملک رہا ہے، میں فصل کی پیداوار بھی تیزی سے کم ہوئی ہے اور اس سال تقریباً 32 فیصد کمی کے بعد پیداوار کا تخمینہ 296 ٹن لگایا گیا ہے۔

یو این او ڈی سی کے اندازے کے مطابق 2025 میں افیون کی کاشت کا مجموعی رقبہ 10,200 ہیکٹر رہا، جو 2024 کے 12,800 ہیکٹر کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہے اور 2022 میں پابندی سے پہلے کے 232,000 ہیکٹر کے مقابلے میں نہایت کم سطح پر آ گیا ہے۔

ادارے کے مطابق اگرچہ پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن خشک افیون کی قیمت میں بھی 27 فیصد کمی ہوئی ہے اور یہ 570 ڈالر فی کلوگرام تک گر گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قیمتوں میں کمی مارکیٹ کے ڈھانچے میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جو ممکنہ طور پر دیگر ممالک میں غیر قانونی کاشت کی نئی کوششوں کو جنم دے سکتی ہے۔

یو این او ڈی سی کے مطابق کاشت، قیمتوں اور منشیات کی ضبط کرنے کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان اور اس کے اردگرد منشیات کی منڈیوں اور اسمگلنگ کے رجحانات میں بنیادی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افیون کی زرعی پیداوار میں کمی کے باوجود مصنوعی منشیات خصوصاً میتھ ایمفیٹامین کی پیداوار میں اضافہ جاری ہے۔

ادارے کے مطابق جیسے جیسے افیون پر مبنی معیشت سکڑ رہی ہے، منظم جرائم پیشہ گروہوں نے مصنوعی منشیات کو اپنا نیا کاروباری ماڈل بنا لیا ہے، کیونکہ ان کی تیاری نسبتاً آسان، سراغ لگانا مشکل اور موسمی تغیرات سے کم متاثر ہوتی ہے۔