ڈپٹی وزیراعظم اور قائدِ ایوان سینیٹ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ حکومت پارلیمان میں 27ویں آئینی ترمیم پیش کرنے جا رہی ہے اور وہ حکومت سے درخواست کریں گے کہ یہ مجوزہ قانون سب سے پہلے سینیٹ میں پیش کیا جائے، نہ کہ قومی اسمبلی میں۔

سینیٹ کے 355ویں اجلاس کے پہلے روز اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم آرہی ہے۔ عام طور پر ایسے مسودے پہلے قومی اسمبلی میں پیش کیے جاتے ہیں، لیکن اگر اپوزیشن جلدی میں ہے اور مسودہ دیکھنا چاہتی ہے تو وہ حکومت سے گزارش کریں گے کہ ترمیم کو پہلے ایوانِ بالا میں پیش کیا جائے۔

انہوں نے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کو ہدایت دی کہ وہ حکومت سے اس معاملے پر بات کریں تاکہ ترمیم کو ایوانِ بالا میں قومی اسمبلی سے پہلے لایا جا سکے۔ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ یہ ترمیم حکومت خود پیش کر رہی ہے اور اسے آئین و قانون کے مطابق نمٹایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ ترمیم کو تفصیلی جائزے کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا اور اس پر پارلیمان میں بھرپور بحث ہوگی۔ اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین کے ٹویٹ میں شامل تمام نکات انہی امور سے متعلق ہیں جن پر بات چیت ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایک سیاست دان اور جماعت کے سربراہ ہیں، انہیں ٹویٹ کرنے کا حق ہے۔ میں نے یہ ٹویٹ اس وقت پڑھی جب میں غزہ میں امن اقدامات کے سلسلے میں دورہ مکمل کر کے پاکستان واپس پہنچا۔”

اس سے قبل آصف علی زرداری نے ایک ٹویٹ میں بتایا تھا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں مسلم لیگ (ن) کے وفد نے ان سے ملاقات کر کے 27ویں آئینی ترمیم کی حمایت مانگی ہے، جس میں آئینی عدالت کے قیام، ایگزیکٹو مجسٹریٹس، ججوں کی ٹرانسفر، این ایف سی میں صوبوں کے حصے کے تحفظ کی شق کے خاتمے، آرٹیکل 243 میں ترمیم، تعلیم اور آبادی منصوبہ بندی کو وفاق میں واپس لانے، اور چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں تعطل ختم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر نے اس ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ایوان میں تفصیلات بتانی چاہئیں۔ ان کے مطابق حکومت کے وزرا پہلے ہی عوام کو گمراہ کر چکے ہیں۔

دوسری جانب اپوزیشن ارکان نے اپوزیشن لیڈر کی عدم تقرری پر شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ علامہ راجہ ناصر عباس کو فوراً اپوزیشن لیڈر قرار دیا جائے۔ اجلاس کے دوران چار سرکاری بل منظور کیے گئے جبکہ دو آرڈیننس بھی پیش کیے گئے۔ سینیٹ کا اجلاس جمعہ تک ملتوی کر دیا گیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025