پاکستان

غزہ میں فوج بھیجنے کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کرے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر

آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پیر کے روز کہا ہے کہ غزہ میں امن...
شائع November 3, 2025 اپ ڈیٹ November 3, 2025 10:37pm

آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پیر کے روز کہا ہے کہ غزہ میں امن مشن کے لیے پاکستانی فوج کی تعیناتی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کرے گی۔

راولپنڈی میں میڈیا بریفنگ کے دوران فوج کے ترجمان نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کا معاملہ پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہے جبکہ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ پاکستان آرمی سیاست سے دور رہنا چاہتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ “پاکستانی فوج کو سیاسی معاملات سے الگ رکھا جانا چاہیے”، اور یہ اعادہ کیا کہ فوج کی توجہ قومی سلامتی، ملکی سرحدوں اور عوام کے تحفظ پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “پاکستان اپنی سرحدوں اور شہریوں کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے”، انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے اور اپنی پالیسیاں خود بناتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل شریف نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کی سلامتی کی ضامن ہیں، افغانستان نہیں۔

دہشت گردوں سے کوئی بات نہیں ہوگی

ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشت گرد گروہوں سے مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی اولین ترجیح دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “فتنہ الخوارج” نامی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں میں 1667 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، تاہم بعض سیاسی گروہوں سے وابستہ جرائم پیشہ اور دہشت گرد عناصر اسمگلنگ اور منظم جرائم کے خاتمے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا، “طالبان نے ہمارے جوانوں کی لاشوں کی بے حرمتی کی، ہم ان سے کیسے مذاکرات کر سکتے ہیں؟” — یہ بیان دیتے ہوئے انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردوں سے مذاکرات کی حالیہ تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان حکام کی جانب سے مذاکرات کے لیے رکھی گئی شرائط “غیر متعلقہ” ہیں، اور سرحد پار حملوں کے جواب میں پاکستان کا ردعمل “فوری اور موثر” رہا ہے۔

آپریشن جاری رہیں گے

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ کالعدم تنظیموں، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) شامل ہیں، کے خلاف آپریشن اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتا۔

انہوں نے افغان طالبان حکومت پر دہشت گرد گروہوں کی معاونت کا الزام لگایا اور کابل سے مطالبہ کیا کہ وہ ان تمام دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کرے جو ماضی کی عسکری کارروائیوں کے دوران سرحد پار فرار ہو گئے تھے، تاکہ ان پر پاکستانی قانون کے تحت مقدمہ چلایا جا سکے۔

امریکا کے ساتھ ڈرون آپریشنز پر کوئی معاہدہ نہیں

ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغانستان میں امریکی ڈرون آپریشنز سے متعلق کسی بھی معاہدے کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کا کوئی معاہدہ موجود نہیں اور افغان حکام کی جانب سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

انہوں نے دہشت گردی اور منظم جرائم کے گٹھ جوڑ کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان میں منشیات کی اسمگلنگ دہشت گرد گروہوں کے لیے بنیادی مالیاتی ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق “افیون کی کاشت سے فی ایکڑ 18 سے 25 لاکھ روپے تک آمدن ہوتی ہے، جس کا منافع افغان طالبان، ٹی ٹی پی اور مقامی جنگجو سرداروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔”

سرحدی نگرانی

سرحدی سیکیورٹی پر بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ سرحد 2600 کلومیٹر طویل اور دشوار گزار علاقے پر مشتمل ہے، جس کے ہر مقام پر چوکی قائم کرنا ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ “ہر 25 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک پوسٹ قائم کی جاتی ہے،” اور اس بات کا انکشاف کیا کہ بعض مواقع پر افغان بارڈر گارڈز نے دہشت گردوں کی دراندازی میں مدد کے لیے فائرنگ کی، جس کا پاکستانی فورسز نے موثر جواب دیا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ حالیہ استنبول اجلاس میں پاکستان کا موقف واضح تھا: دہشت گردی نہیں، بیرونی مداخلت نہیں، اور افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔