دفترِ خارجہ نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ پاکستان بھارت اور امریکا کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے دفاعی فریم ورک معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ اس کے خطے میں امن و استحکام پر ممکنہ اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ ’’بھارت۔امریکا دفاعی معاہدہ ایک حالیہ پیش رفت ہے، جو پاکستان کے وقت کے مطابق آج صبح طے پایا۔ ہم اس معاہدے کا جائزہ لے رہے ہیں، خصوصاً جنوبی ایشیا میں امن، سلامتی اور استحکام پر اس کے اثرات کے حوالے سے۔‘‘
افغانستان کی طالبان انتظامیہ کے ساتھ پاکستان کے جاری مذاکرات کے بارے میں سوال پر ترجمان نے کہا کہ کابل حکام نے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر شدت پسند گروہوں کی افغان سرزمین پر موجودگی کو تسلیم کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ افغان حکام نے عدم کارروائی کے مختلف جواز پیش کیے ہیں، ’’تاہم افغان سرزمین پر دہشت گرد عناصر کی موجودگی پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کو مزید تقویت دیتی ہے۔‘‘
اندرابی نے بتایا کہ گزشتہ چار برسوں سے پاکستان افغان فریق کے ساتھ رابطے میں ہے اور اسلام آباد کے مؤقف کو ’’محتاط امید‘‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ طورخم سرحد فی الحال بند ہے، جبکہ اس سے متعلق تفصیلات وزارتِ داخلہ جاری کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں پھنسے پاکستانی تاجروں کو براہِ راست پروازوں کے ذریعے وطن واپس لایا جا سکتا ہے، اور حکام اُن افراد کی فہرست تیار کر رہے ہیں جو واپسی کے خواہاں ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان ترکی اور قطر کی سہولت کاری میں مذاکرات کے عمل میں شریک ہے، جن کا تازہ دور 25 سے 29 اکتوبر تک استنبول میں منعقد ہوا۔ ان کے مطابق اسلام آباد نے واضح کر دیا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
اندرابی نے ایک بار پھر زور دیا کہ پاکستان توقع کرتا ہے کہ افغان طالبان اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بھارت سے منسلک بلوچ علیحدگی پسند گروہوں سمیت دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ’’ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات‘‘ کریں گے۔
انہوں نے جاری سیکورٹی خدشات کے باوجود افغانستان کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا، جن میں ازبکستان۔افغانستان۔پاکستان ریلوے کاریڈور جیسے منصوبے شامل ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان مذاکراتی عمل میں شریک ہے اور 6 نومبر کو ہونے والے آئندہ دورِ مذاکرات کا منتظر ہے۔