سندھ حکومت نے سندھ ایگریکلچرل انکم ٹیکس (ترمیمی) آرڈیننس 2025 نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت یکم جولائی 2025 سے زرعی آمدن پر زیادہ شرح والا ٹیکس لاگو ہوگا۔ یہ آرڈیننس سندھ ایگریکلچرل انکم ٹیکس ایکٹ 2025 میں ترمیم کرتا ہے۔
ترمیمی آرڈیننس کی شق نمبر 2 نہایت اہم قرار دی گئی ہے کیونکہ اس میں یکم جنوری 2025 سے 30 جون 2025 تک کی مدت کے لیے پرانی شرحوں کے اطلاق کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں اس عرصے کے دوران سندھ میں زرعی آمدن ٹیکس کی شرحیں پنجاب میں لاگو شرحوں کے برابر کر دی گئی ہیں، جس سے سندھ کے کسانوں کے خلاف امتیاز ختم ہو گیا ہے۔
ترمیمی آرڈیننس کے تحت یکم جولائی 2025 سے زرعی آمدن ٹیکس کی نئی، یعنی زیادہ شرحیں، نافذ العمل ہوں گی۔
آرڈیننس کے متن کے مطابق، آئین کے آرٹیکل 128 کی شق (1) کے تحت حاصل اختیارات کے استعمال سے گورنر سندھ نے یہ آرڈیننس نافذ کیا ہے۔
یہ آرڈیننس فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور اس کا اطلاق یکم جنوری 2025 سے تصور کیا جائے گا۔
سندھ ایگریکلچرل انکم ٹیکس ایکٹ 2025 میں سیکشن 3 کے بعد ایک نیا ذیلی سیکشن شامل کیا گیا ہے، جس کے مطابق یکم جنوری 2025 سے 30 جون 2025 تک کی مدت کے لیے زرعی آمدن ٹیکس کی وہی شرحیں لاگو ہوں گی جو سندھ ایگریکلچرل انکم ٹیکس آرڈیننس 2000 کے تحت مقرر تھیں۔
اسی ایکٹ کی سیکشن 5 میں موجود الفاظ یکم جنوری 2025 کو تبدیل کرکے یکم جولائی 2025 کر دیا گیا ہے۔
مزید یہ کہ ایک نیا سیکشن 5-اے بھی شامل کیا گیا ہے جس کے مطابق حکومت کسی بھی مالی سال کے دوران سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن جاری کرکے شیڈول میں ترمیم کر سکتی ہے، تاہم یہ نوٹیفکیشن صوبائی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پیش کرنے کے وقت رکھا جائے گا۔
نوٹیفکیشن کے تحت حکومت کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ ترمیم کو ماضی کی کسی تاریخ سے مؤثر قرار دے۔ مزید یہ کہ نوٹیفکیشن اس تاریخ سے نافذ العمل سمجھا جائے گا جو اس میں درج ہوگی، چاہے اس تاریخ کے بعد سرکاری گزٹ میں اس کی اشاعت عمل میں آئے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025