پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹیکسٹائل شعبے کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کرے، بصورتِ دیگر طویل خاموشی پاکستان کی برآمدی کارکردگی کو مزید کمزور کر سکتی ہے۔

کونسل کے چیئرمین فواد انور نے مختلف سرکاری محکموں کو ایک خط کے ذریعے مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر 2025) کے برآمدی اعدادوشمار پر مبنی رپورٹ ارسال کی ہے۔

رپورٹ میں کونسل نے پاکستان کی برآمدات کی کارکردگی کا شواہد پر مبنی تجزیہ پیش کیا اور اُن رجحانات کی نشاندہی کی ہے جن کے لیے فوری پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق نتائج تشویشناک اور رہنمائی فراہم کرنے والے ہیں۔ ٹیکسٹائل سیکٹر، جو پاکستان کی کل برآمدات کا تقریباً 63 فیصد حصہ رکھتا ہے، دباؤ کا شکار ہے۔ ستمبر 2025 میں اس کی برآمدات سالانہ بنیادوں پر 2 فیصد کمی کے ساتھ 1.58 ارب ڈالر رہ گئیں۔ یہ منفی رجحان ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں بھی نظر آیا، جس میں مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران 594 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ خسارہ درآمدات میں اضافے کے باعث پیدا ہوا جو برآمدات اور ترسیلاتِ زر کی رفتار سے زیادہ رہا، جس سے فوری اصلاحی اقدامات کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔

کونسل نے برآمدی زوال کو روکنے اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کا حصہ بحال کرنے کے لیے چند اہم تجاویز دی ہیں:(i) ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کے تحت خودکار ریفنڈز اور ان پٹس کی زیرو ریٹنگ کے ذریعے لیکویڈیٹی اور ٹیکس مسائل کا خاتمہ؛(ii) اجرت اور مزدور پالیسیوں کو علاقائی حریف ممالک کے مطابق ہم آہنگ کر کے لاگت میں مسابقت بحال کرنا؛(iii) اسپننگ اور ویونگ سیکٹر کی بحالی کے لیے کاروباری لاگت میں کمی اور کپاس کے معیار میں بہتری کے ذریعے ڈھانچہ جاتی مدد فراہم کرنا؛(iv) ایکسِم بینک کو مضبوط بنا کر اور ای ایف ایس اور ایل ٹی ایف ایف کی حدود میں توسیع کر کے فنانسنگ تک رسائی بہتر بنانا تاکہ جدت اور ماحول دوست سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔

کونسل نے زور دیا کہ ان اقدامات پر عمل درآمد برآمدی مسابقت کی بحالی، بیرونی کھاتوں کے استحکام اور پائیدار معاشی نمو کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔

حال ہی میں وزیراعظم کی زیرِ صدارت کاروباری برادری کو درپیش مسائل پر ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں متعلقہ حکام اور صنعت کاروں نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد وزیراعظم نے مختلف پینلز تشکیل دیے تاکہ سفارشات تیار کی جا سکیں۔

تاہم، رپورٹ کے مطابق ان پینلز میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کا کوئی نمایاں نمائندہ شامل نہیں کیا گیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025