اسلام آباد سے کراچی تک کرکٹ کے منتظمین عالمی اثر و رسوخ کے دباؤ کو بخوبی محسوس کرتے ہیں اور یہی واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ چاہے کوئی ملک کتنا ہی بااثر کیوں نہ بن جائے، اگر برابری کا تاثر مٹ جائے تو پورے کھیل کے نظام پر اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے۔

سابق انگلش کرکٹر اور میچ ریفری کرس براڈ نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے بھارتی ٹیم کے ساتھ رویّے پر غیر جانبداری کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کو دیے گئے انٹرویو میں براڈ جو 2003 سے 2024 تک میچ ریفری کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے نے انکشاف کیا کہ ایک موقع پر انہیں یہ ہدایت دی گئی کہ بھارتی ٹیم کے ساتھ نرمی برتیں کیونکہ یہ بھارت ہے۔

براڈ کے مطابق ایک میچ میں بھارت تین سے چار اوورز پیچھے رہ گیا تھا، جس پر جرمانہ عائد ہونا تھا، مگر انہیں فون پر کہا گیا نرمی دکھائیں، کچھ وقت نکال لیں کیونکہ یہ بھارت ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں اور دیگر آفیشلز کو ہدایت دی گئی کہ رپورٹ میں اس طرح تبدیلی کریں کہ ٹیم پر جرمانہ نہ لگے۔

سابق ریفری نے کہا کہ اگلے ہی میچ میں جب بھارتی ٹیم ایک بار پھر مطلوبہ اوور ریٹ برقرار نہ رکھ سکی تو انہوں نے اپنے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا تو جواب ملا اب کرو یعنی اب کپتان پر جرمانہ کرو کیونکہ پہلے ہی نرمی دکھائی جاچکی ہے۔

کرس براڈ نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں بھارتی کرکٹ انتظامیہ نے آئی سی سی کے اندر غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل کر لیا ہے۔ ان کے بقول بھارت کے پاس سارا پیسہ ہے اور اب انہوں نے کئی لحاظ سے آئی سی سی پر قبضہ جمالیا ہے۔

ان کے انکشافات نے جنوبی ایشیا میں شفافیت، غیر جانب داری اور بڑی کرکٹ طاقتوں کے اثر و رسوخ پر بحث چھیڑ دی ہے۔

پاکستانی ناظرین اور علاقائی کرکٹ بورڈز کے لیے براڈ کے بیانات کئی پہلو اجاگر کرتے ہیں۔

اول یہ ظاہر کرتے ہیں کہ میچ آفیشلز پر دباؤ بڑھ سکتا ہے جب بڑی مارکیٹ رکھنے والے ممالک مثلاً بھارت شامل ہوں، جس سے اصولوں کے یکساں نفاذ میں فرق آسکتا ہے۔

دوم ان کا کہنا ہے کہ کھیل کی گورننس خالصتاً میرٹ پر نہیں بلکہ مالیاتی مفادات اور جغرافیائی سیاست سے بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

سوم ان الزامات سے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) اور آئی سی سی کے شفاف طرزِ عمل پر نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔

کرس براڈ کا کہنا تھا کہ انہوں نے فروری 2024 میں آخری بار میچ ریفری کے فرائض انجام دیے اور وہ خوش ہیں کہ اب وہ اس ماحول کا حصہ نہیں کیونکہ اب یہ منصب پہلے سے کہیں زیادہ سیاسی ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا دنیا کے کچھ حصوں میں درست اور غلط کے درمیان فرق دریائے گنگا کی طرح ہے ، ان کے بیچ بہت سا گندا پانی بہہ رہا ہے، جس سے نمٹنا پڑتا ہے۔

آئی سی سی یا بی سی سی آئی اس انٹرویو پر کیا ردِعمل دیتے ہیں یہ ابھی دیکھنا باقی ہے، لیکن براڈ کے انکشافات نے اس بحث کو ایک نیا زاویہ دے دیا ہے کہ کرکٹ کی عالمی حکمرانی میں مالی مفادات، اثر و رسوخ اور انصاف کے درمیان توازن کس حد تک قائم ہے۔