پاکستان

پاکستان اور سعودی عرب کا نیا اقتصادی تعاون فریم ورک شروع کرنے پر اتفاق

  • فریم ورک کے تحت نجی شعبے کا کردار مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تبادلہ بڑھانے پر توجہ دی جائے گی، وزیراعظم ہاؤس
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اور سعودی عرب نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے فریم ورک کے آغاز پر اتفاق کر لیا ہے۔

وزیراعظم کے دفتر (پی ایم او) کی جانب سے منگل کو جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے درمیان طے پایا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ فریم ورک دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی مفادات پر مبنی ہے اور تجارت و سرمایہ کاری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کی باہمی خواہش کی توثیق کرتا ہے ، تاکہ باہمی مفادات کو فروغ دیا جا سکے۔

مزید کہا گیا کہ اس فریم ورک کے تحت اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری اور ترقی کے شعبوں میں کئی اسٹریٹجک اور اہم منصوبوں پر بات چیت کی جائے گی، جو دونوں حکومتوں کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کریں گے۔

یہ فریم ورک نجی شعبے کے کلیدی کردار کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تبادلے میں اضافہ کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ترجیحی شعبوں میں توانائی، صنعت، کان کنی، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، سیاحت، زراعت اور غذائی تحفظ شامل ہیں۔

پریس ریلیز کے مطابق دونوں ممالک اس وقت کئی مشترکہ اقتصادی منصوبوں کا جائزہ لے رہے ہیں، جن میں مملکت اور پاکستان کے درمیان بجلی کی ترسیل سے متعلق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط اور توانائی کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک اور مفاہمتی یادداشت شامل ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ یہ فریم ورک دونوں ممالک کی برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا تسلسل ہے اور ان کے درمیان مختلف اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں پائیدار شراکت داری کے قیام کے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتا ہے، تاکہ دونوں ممالک کی قیادت اور عوام کی امنگوں کو پورا کیا جا سکے اور باہمی مفادات کو فروغ دیا جا سکے۔

دونوں ممالک کے رہنماؤں نے سعودی پاکستانی سپریم کوآرڈی نیشن کونسل کے اجلاس کے انعقاد کی بھی امید ظاہر کی۔

یہ معاہدہ وزیراعظم شہباز شریف کے مملکت کے دورے کے دوران طے پایا، جہاں وہ نویں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو (ایف آئی آئی 9 ) میں شرکت کے لیے گئے ہیں۔

ایف آئی آئی 9 میں دنیا بھر کے رہنما، سرمایہ کار، پالیسی ساز اور جدت پسند شرکت کر رہے ہیں ، تاکہ خوشحالی کی کنجی: ترقی کی نئی سرحدوں کو کھولنا کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔