عالمی سرمایہ کار اس ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی تجارتی مذاکرات کی جانب ماضی کی توقعات کے ساتھ دیکھ رہے ہیں، ایک طرف تجارتی جنگ بندی کی امید، اور دوسری جانب اس خدشے کے ساتھ کہ اصل معاہدہ اتنا حوصلہ افزا ثابت نہ ہو۔

پیر کے روز عالمی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی جب امریکی حکام نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات کار کم امریکی ٹیرف اور چینی نایاب معدنیات کی برآمدی پابندیوں میں نرمی کے لیے ایک ابتدائی فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس خبر کے بعد امریکی ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 1 فیصد بڑھ کر ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا، جبکہ جنوبی کوریا، تائیوان اور جاپان کی مارکیٹس میں بھی اضافہ ہوا۔

ماہرین کے مطابق یہ وہی رجحان ہے جو ٹرمپ کی پہلی اور اب دوسری صدارت میں بارہا دیکھا گیا، پہلے سخت بیانات، پھر مذاکرات اور بالآخر نرمی۔ مالیاتی منڈیوں میں اسے ٹیکو پیٹرن کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ ٹرمپ بڑے دعوے کرتے ہیں مگر آخرکار پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

گزشتہ ماہ ٹرمپ نے چین پر 100 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی، جس کے بعد مارکیٹس میں مندی دیکھی گئی، مگر مذاکرات کی بحالی کی خبریں آتے ہی سرمایہ کاروں کا اعتماد واپس آیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ اور شی کا یہ اجلاس تجارتی جنگ کا مکمل خاتمہ نہیں کرے گا، تاہم کشیدگی میں معمولی کمی بھی سرمایہ کاروں کے لیے مثبت اشارہ ہوگی۔

دوسری جانب خدشہ ہے کہ اگر معاہدہ توقعات پر پورا نہ اترا تو اسٹاک مارکیٹس میں گراوٹ آسکتی ہے۔ برینڈی وائن گلوبل کی ماہر ٹریسی چن کے مطابق مارکیٹ منفی خبروں پر زیادہ تیزی سے ردعمل دیتی ہے، مثبت خبروں پر کم ردعمل دیتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، ماضی کے تجربات سے یہ واضح ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان ابتدائی معاہدوں کے باوجود مذاکرات اکثر تعطل کا شکار ہوتے رہے ہیں، اس لیے موجودہ جوش وقتی ثابت ہو سکتا ہے۔