پاکستان نے پیر کے روز یورپی یونین کے ایک وفد کو ملک میں گورننس کو مضبوط بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا، جبکہ جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔

یہ پیشرفت اس وقت ہوئی جب یورپی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے ترقی کے ایک اعلیٰ سطح وفد، جس کی قیادت لوکاس مینڈل (آسٹریا) کر رہے تھے، نے وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کے ساتھ ملاقات کے لیے وزارت تجارت، اسلام آباد کا دورہ کیا۔

یورپی یونین کے پاکستان میں سفیر ریموندس کاروبلس بھی وفد کے ہمراہ تھے۔

یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم ترقی پذیر ممالک کو پائیدار ترقی اور اچھی حکمرانی کے لیے ایک خصوصی ترغیب فراہم کرتی ہے۔

اس سہولت کے اہل ممالک کو انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیات، اور اچھی حکمرانی سے متعلق 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کرنا لازمی ہوتا ہے۔

اس کے بدلے میں، یورپی یونین ان ممالک کی برآمدات پر دو تہائی سے زیادہ ٹیرف لائنز پر درآمدی ڈیوٹی صفر کر دیتی ہے۔

ان مستفید ممالک میں پاکستان، بولیویا، کیپ وردے، کرغزستان، منگولیا، فلپائن، سری لنکا اور ازبکستان شامل ہیں۔

پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس 2023 میں ختم ہو گیا تھا، تاہم موجودہ جی ایس پی اسکیم کو مزید چار سال کے لیے 2027 تک توسیع دے دی گئی ہے۔ پاکستان اس سے فائدہ اٹھاتا رہے گا، البتہ اب اس پر نئی شرائط لاگو ہوں گی۔

وزارتِ تجارت کے بیان کے مطابق، پیر کے روز ہونے والی اس ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم پر زور دیا گیا، خاص طور پر جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت، جس نے پاکستان میں پائیدار تجارت، ترقیاتی تعاون، اور انسانی حقوق کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ملاقات کے دوران وزیر تجارت جام کمال خان نے بتایا کہ پاکستان کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا 2026 تا 2028 مدت کے لیے رکن منتخب کیا گیا ہے، جبکہ نیشنل کمیشن برائے ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) کو گلوبل الائنس آف نیشنل ہیومن رائٹس انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے اے اسٹیٹس کی سند دی گئی ہے، جو پاکستان کی ادارہ جاتی پیشرفت کا عالمی اعتراف ہے۔

جام کمال خان نے مزید بتایا کہ پاکستان نے شادی کی قانونی عمر میں ہم آہنگی پیدا کی ہے اور اسلام آباد چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 جیسے قوانین منظور کیے ہیں۔

وزارت کے بیان کے مطابقدیگر اہم قانون سازی اقدامات میں کمیشن برائے تحفظِ صحافی و میڈیا پروفیشنلز کا قیام، جلد تشکیل پانے والا نیشنل کمیشن برائے اقلیتی امور، اور پالیسی برائے بین المذاہب ہم آہنگی شامل ہیں ، جو حکومت کی آزادی، برداشت، اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ سے وابستگی کو ظاہر کرتے ہیں۔”

وزیر تجارت نے حکومت کے اُن اقدامات پر بھی روشنی ڈالی جو اعلیٰ ٹیکسیشن، توانائی کی لاگت اور بلند شرحِ سود سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے یورپی سرمایہ کاری کے امکانات کو بھی اجاگر کیا، خصوصاً زراعت، فوڈ پروسیسنگ، بیجوں کی تیاری، ویلیو ایڈیڈ برآمدات، مینوفیکچرنگ، ایس ایم ایز، اور ای۔کامرس کے شعبوں میں۔

وفد کے ساتھ جام کمال خان کی گروپ فوٹو بھی لی گئی۔

انہوں نے یورپی کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ پاکستان کے ساتھ ٹیکنالوجی ٹرانسفر، پائیدار زراعت، اور فوڈ چین انوویشن کے منصوبوں میں شراکت کریں۔

وزیرِ تجارت نے دو اہم تجارتی خدشات بھی یورپی وفد کے سامنے رکھے:

  1. جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت ایتھانول کی برآمدات پر ڈیوٹی چھوٹ ختم کیے جانے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا، جس سے دیہی روزگار اور زرعی برادریوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں”

  2. باسمتی چاول کی جغرافیائی اشاریہ (جی آئی) رجسٹریشن کے معاملے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین منصفانہ اور غیرجانبدارانہ فیصلہ یقینی بنائے جو پاکستان کی ثقافتی میراث اور عالمی سطح پر مشہور چاول کی اس قسم پر اس کے جائز حق کو تسلیم کرے۔

وزیرِ تجارت نے کہا کہ دونوں امور پاکستان کی دیہی معیشت اور لاکھوں کسانوں کے روزگار کے لیے نہایت اہم ہیں، خاص طور پر حالیہ سیلابوں کے تناظر میں جنہوں نے زرعی شعبے کو شدید متاثر کیا۔

انہوں نے یورپی یونین کی تکنیکی شمولیت کو سراہا اور ابھرتے ہوئے یورپی ضوابطی فریم ورک جیسے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکنزم (سی بی اے ایم)، کارپوریٹ سسٹین ایبلٹی ڈیو ڈیلجنس ڈائریکٹیو (سی ایس ڈی ڈی ڈی) اور یورپی یونین ڈیفاریسٹیٹیشن ریگولیشن (ای یو ڈی آر) پر مزید تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کی تکنیکی معاونت اور استعداد کار میں اضافے کی حمایت کا منتظر ہے تاکہ پائیداری اور ماحولیاتی معیار سے متعلق نئے معیارات پر پورا اترنے کی اپنی صلاحیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔‘

دریں اثنا، وزارت اور انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (آئی پی او) کے سینئر حکام نے وفد کو آگاہ کیا کہ پاکستان میڈرڈ پروٹوکول برائے ٹریڈ مارکس اور مراکش معاہدہ برائے بصارت سے محروم افراد میں شامل ہو چکا ہے، جبکہ پیٹنٹس اور کاپی رائٹس کے حوالے سے مزید اصلاحات پر کام جاری ہے۔ وفد کو بتایا گیا کہ مضبوط انٹلیکچوئل پراپرٹی (آئی پی) قوانین حکومت کی اولین ترجیح ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مسابقت کو بہتر بنایا جا سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ یورپی پارلیمنٹ کے ارکان لوکاس مینڈل اور مارک یونگن نے پاکستان کی تعمیری شمولیت، کھلے اور شفاف مکالمے، اصلاحات پر توجہ، اور انسانی وسائل کی ترقی کی پالیسی کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا اور یقین دہانی کرائی کہ مکالمہ، شفافیت اور شراکت داری یورپی یونین اور پاکستان کے تعلقات کی رہنمائی کرتی رہے گی۔

وفد نے امن، تعلیم اور اقتصادی تعاون جیسے عالمی نوعیت کے امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔

لوکاس مینڈل نے پاکستان کی مہمان نوازی کو سراہا اور عالمی سطح پر جمہوریت اور انسانی حقوق کے فروغ میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

وزیر تجارت نے ایک بار پھر اعادہ کیا کہ پاکستان انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق اور ماحولیاتی تحفظ کے عالمی ایجنڈے کا مکمل طور پر حامی ہے اور اسے جی ایس پی پلس فریم ورک کے مقاصد سے ہم آہنگ انداز میں آگے بڑھا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ باہمی ترقی، پائیدار شراکت داری اور مشترکہ خوشحالی کا خواہاں ہے۔

بیان کے مطابق ملاقات دونوں جانب سے اظہارِ تشکر اور یورپی یونین–پاکستان دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

یورپی یونین کے وفد میں رابرٹ بیڈرون (پولینڈ)، خوان فرنینڈو لوپیز آگویلار (اسپین)، اور توماش زڈیکوفسکی (چیکیا) شامل تھے، جبکہ مشیروں میں کرسچن میسیتھ، جینیٹا کوئیوکووا اور تیرِسا پاؤلا ڈی فیگوریڈو مرگلہاؤ شامل تھیں۔

جی ایس پی پلس حیثیت نے پاکستان کی برآمدات، خاص طور پر ٹیکسٹائل سیکٹر میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور یہ یورپی یونین–پاکستان اقتصادی تعلقات کی بنیاد کے طور پر کام کر رہی ہے۔ اس حیثیت کا تسلسل نہ صرف تجارتی ترجیح ہے بلکہ برآمدی مسابقت برقرار رکھنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور دوطرفہ تجارتی رفتار کو قائم رکھنے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔