کاروبار اور معیشت

وزارتِ خزانہ کے تخمینے کے مطابق اکتوبر 2025 میں افراطِ زر کی شرح 5 سے 6 فیصد رہنے کا امکان

  • ستمبر میں بیرونِ ملک افرادی قوت کی روانگی میں 43 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، وزارت کا ماہانہ اقتصادی جائزہ و آؤٹ لک
شائع اپ ڈیٹ

وزارتِ خزانہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ حالیہ مہنگائی میں اضافہ سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی عارضی صورتحال ہے، اور اکتوبر 2025 کے اختتامی مہینے کے لیے افراطِ زر کی شرح 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

وزارت نے اپنے ماہانہ اقتصادی جائزے و آؤٹ لک (اکتوبر 2025) میں بتایا ہے کہ صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی ) کے تحت مہنگائی کی شرح مالی سال 2025-26 کے دوران مقررہ ہدف کے اندر رہنے کی توقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ سیلاب کے باعث رسد میں رکاوٹیں اور سرحدی گزرگاہوں کی عارضی بندش نے چند ضروری اشیاء کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا ہے۔ اکتوبر 2025 میں افراطِ زر کی شرح 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔

ستمبر 2025 میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی ) کے تحت سالانہ افراطِ زر کی شرح 5.6 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو اگست 2025 میں 3 فیصد اور ستمبر 2024 میں 6.9 فیصد تھی۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ خوراک کی فراہمی سے متعلق دباؤ کے باعث مہنگائی پر عارضی اثرات پڑے ہیں، تاہم مالی سال 2025-26 میں یہ ہدف شدہ حد 5 سے 7 فیصد کے اندر رہنے کی توقع ہے۔

دستاویز میں کہا گیا کہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی ( ای ایف ایف ) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسلٹی ( آر ایس ایف ) کے تحت آئی ایم ایف کے کامیاب جائزے نے پاکستان کے اصلاحاتی عمل اور محتاط معاشی نظم و نسق پر اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب سے متعلق رکاوٹوں کے باوجود پاکستانی معیشت بحالی کے راستے پر گامزن ہے۔ صنعتی سرگرمیاں مضبوط ہیں، جنہیں بڑی صنعتوں خصوصاً سیمنٹ، آٹوموبائلز اور متعلقہ شعبوں میں بحالی سے سہارا ملا ہے، جبکہ برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں مسلسل بہتری دیکھی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بیرونی کھاتہ بھی مستحکم ہے، ستمبر 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا گیا، جسے ترسیلاتِ زر کے مضبوط بہاؤ نے سہارا دیا۔ خوراک کی فراہمی میں دباؤ کے باوجود مہنگائی ہدف کے اندر رہنے کی توقع ہے۔”

وزارت کے مطابق بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں ، فِچ، ایس اینڈ پی، اور موڈیز، کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کی عکاسی کرتی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نجکاری کے عمل میں پیش رفت، ڈیجیٹل گورننس اور سی پیک فیز-ٹو کے مشترکہ منصوبے حکومت کے مالی نظم، ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور پائیدار و جامع ترقی کے عزم کو اجاگر کرتے ہیں۔

یہ پیش رفت اس حقیقت میں بھی جھلکتی ہے کہ گزشتہ 15 ماہ کے دوران پاکستان کے خودمختار قرض کے ڈیفالٹ رسک میں نمایاں کمی آئی، اور کریڈٹ ڈیفالٹ سویپ (سی ڈی ایس ) کی شرح میں 2,200 بیسز پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

مزید کہا گیا کہ پاکستان کے پائیدار فنانسنگ فریم ورک کو سسٹین ایبل فِچ () کی جانب سے انتہائی شاندار الائنمنٹ اسکور دیا گیا ہے، جو سبز، سماجی اور پائیدار بانڈز و قرضوں سے متعلق عالمی معیار کی مکمل پاسداری کی تصدیق کرتا ہے۔

بیرونِ ملک روزگار کے لیے کارکنوں کی روانگی میں 43 فیصد اضافہ

رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 میں بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے 73,545 پاکستانی کارکنوں کا اندراج کیا، جو اگست 2025 کے 51,444 کے مقابلے میں 43 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

بلا سود قرضوں کی فراہمی

دستاویز میں بتایا گیا کہ پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (پی پی اے ایف ) نے 26 شراکت دار تنظیموں کے تعاون سے ستمبر 2025 کے دوران 5,370 بلا سود قرضے فراہم کیے، جن کی مالیت 3 کروڑ 22 لاکھ 60 ہزار روپے رہی۔

سیلاب سے زرعی نقصان 430 ارب روپے

ماہانہ اقتصادی جائزے کے مطابق حالیہ سیلاب سے زرعی شعبے کو 430 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے، جس سے چاول، کپاس، گنا، مکئی، چارہ اور سبزیوں کی فصلیں متاثر ہوئیں۔

وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ اس کے باوجود حالیہ اشاریے بحالی کی کوششوں کی نشاندہی کرتے ہیں، جنہیں زرعی قرضوں میں اضافے، مشینری کی بلند درآمدات اور کھاد کے بہتر استعمال سے تقویت ملی ہے۔