دنیا

پاکستانی ڈبزل گروپ نے دبئی میں آئی پی او کیوں موخر کیا؟

  • ایک ماہر کے مطابق حال ہی میں کچھ آئی پی اوز کی قیمتیں لسٹنگ کے بعد کم ہو گئیں، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد پر کسی حد تک منفی اثر پڑا۔ ایسی مثالوں نے سرمایہ کاروں میں احتیاط کا رجحان پیدا کر دیا ہے۔
شائع October 27, 2025 اپ ڈیٹ October 27, 2025 02:31pm

کئی ماہ سے گردش کرنے والی خبروں کے بعد ڈبزل گروپ نے بالآخر 13 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ وہ ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کے ذریعے اپنے عام شیئرز کو دبئی فنانشل مارکیٹ (ڈی ایف ایم) پر فہرست میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، یہ اقدام کمپنی کی قدر تقریباً 2 ارب ڈالر تک متعین کیے جانے کی توقع کے ساتھ سامنے آیا۔ تاہم صرف ایک ہفتے بعد ہی کمپنی نے اعلان کیا کہ وہ اپنی لسٹنگ مؤخر کر رہی ہے۔

کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہفلوٹ کرنے کے ارادے کے اعلان کے بعد سے ڈبزل گروپ کو سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور دلچسپی اور مثبت ردعمل ملا، جو کہ کمپنی کی مارکیٹ میں قیادت، منافع بخش حیثیت اور متحدہ عرب امارات و سعودی عرب میں ترقی کے امکانات کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم کمپنی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنا مجوزہ آئی پی او مؤخر کرے گی اور مستقبل میں پیشکش کے لیے بہترین وقت کا جائزہ لے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہڈبزل گروپ اپنی انتہائی منافع بخش یو اے ای کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے اور سعودی عرب میں اپنے قدم کو مزید مضبوط کرنے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا رہے گا۔

ڈبزل گروپ ایک آن لائن مارکیٹ پلیس دیو ہے، جس کے تحت بیوت(Bayut) (پراپرٹی ویب سائٹ) اور ڈبزل (خرید و فروخت پلیٹ فارم) جیسے برانڈز شامل ہیں۔ اسے 2013 میں پاکستانی بھائیوں عمران علی خان اور ذیشان علی خان نے قائم کیا، جو 2006 میں زمین ڈاٹ کام کے بانی بھی تھے اور اس وقت اولیکس پاکستان کے بھی مالک ہیں۔ تیسرے بھائی حیدر نے 2014 میں منصوبے میں شمولیت اختیار کی۔

ڈبزل گروپ اور اس کے تمام برانڈز کا فوکس صرف مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ (مینا) خطے پر ہے۔

بیوت اور ڈبزل کی سربراہِ تعلقاتِ عامہ نور نابلسی کے مطابقڈبزل گروپ کی ترقی اور کامیابی ہمیشہ مضبوط قیادت، دانشمندانہ فیصلوں اور واضح وژن کی مرہونِ منت رہی ہے۔ آئی پی او مؤخر کرنے کا فیصلہ اسی سوچ سمجھ کر اپنائے گئے رویے کی نمائندگی کرتا ہے جس نے ہمیں ایک چھوٹے اسٹارٹ اپ سے خطے کی کامیاب ترین ٹیک کمپنیوں میں شامل کیا۔

انہوں نے ایک لنکڈان پوسٹ میں کہا کہہم اپنی قیادت پر بھروسہ کرتے ہیں اور ان کے اس عزم پر کہ وہ برانڈ اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے بہترین مفاد میں فیصلے کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ طویل مدتی استحکام اور قدر کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئی پی او کو اگلے اعلان تک روک دیا گیا ہے، اور ہم ہمیشہ کی طرح اپنے مارکیٹس میں جدت، ترقی اور اثر پیدا کرنے پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔

ماہرین کی رائے کے مطابق ڈبزل کا فیصلہ ممکنہ ویلیوایشن فرق اور لسٹنگ کے بعد کارکردگی کے خطرات سے متاثر ہو سکتا ہے۔

آن لائن بروکر ٹک مل کے منیجنگ پرنسپل جوزف دہریہ نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہحالیہ آئی پی اوز کی مثالوں میں، لسٹنگ کے بعد قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔ ایسی مثالوں نے محتاط سرمایہ کاری کا ماحول پیدا کیا، جس کے باعث سرمایہ کار ممکنہ طور پر ڈبزل کی متوقع ویلیوایشن کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ خطرہ ڈبزل کے مالیاتی نتائج سے مزید بڑھ گیا۔ گروپ نے مجموعی طور پر خسارہ ظاہر کیا، اور ایسے عالمی ماحول میں جہاں سرمایہ کار بے لگام ترقی کے بجائے منافع کی واضح راہ کے خواہاں ہیں، کمپنی کے لیے چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔ بک بلڈنگ کے عمل سے پہلے لیا گیا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کاروں کا فیڈبیک ممکنہ طور پر مثبت نہیں تھا۔

انٹرنیشنل فنانسنگ ریویو (آئی ایف آر) کی رپورٹ کے مطابق، کمزور تجارتی کارکردگی کے خدشات ڈبزل کی لسٹنگ منسوخی کا ایک بڑا سبب تھے، اور سرمایہ کاروں نے اس کا موازنہ 2024 میں ڈیلیوری کمپنی طلبات (Talabat) کی لسٹنگ سے کیا، جس کے حصص اپنی اجرا قیمت سے تقریباً 40 فیصد نیچے آ چکے ہیں، جب کہ ایلیک ہولڈنگز کے حصص بھی لسٹنگ کے بعد کم ہو گئے۔

رپورٹ میں ایک بینکر کے حوالے سے بتایا گیا کہ ڈبزل کے کچھ مخصوص مسائل تھے جن سے سرمایہ کار الجھے ہوئے تھے ، مثلاً ایڈجسٹڈ اور رپورٹڈ اعداد و شمار میں بڑا فرق، اور سرمایہ کاروں کی یہ خواہش کہ یو اے ای کے منافع بخش کاروبار کو سعودی عرب کے خسارہ زدہ کاروبار سے الگ ویلیو کیا جائے۔

13 اکتوبر کو، ڈبزل نے اعلان کیا تھا کہ وہ 1,249,526,391 حصص کی پیشکش کرے گا، جو کمپنی کے 30.34 فیصد شیئر کیپٹل کی نمائندگی کرتے ہیں۔

یہ پیشکش کمپنی کے کل جاری شدہ حصص کا تقریباً 30.34 فیصد تھی، جس میں نئے حصص اور موجودہ شیئر ہولڈرز کے فروخت کردہ حصص شامل تھے۔

حتمی قیمت بک بلڈنگ عمل کے ذریعے طے کی جانی تھی، جس کی سبسکرپشن 23 اکتوبر سے 29 اکتوبر تک کھلنی تھی، جب کہ پیشہ ور سرمایہ کاروں کے لیے الاٹمنٹ 30 اکتوبر کو متوقع تھی۔

شیئرز کو 6 نومبر کے آس پاس ڈی ایف ایم پر ٹریڈنگ کے لیے شامل کیا جانا تھا۔

گروپ کے شریک بانی و سی ای او عمران علی خان نے اس موقع پر کہا تھا کہ یہ آئی پی او ڈبزل گروپ کے لیے ایک نئے اور پرجوش باب کا آغاز ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہوسیع تر شیئر ہولڈر بنیاد کو خوش آمدید کہہ کر ہم گروپ کو ترقی کی نئی بلندیوں پر لے جانے، اپنے مارکیٹس میں موجودگی گہری کرنے، اور صارفین، کلائنٹس، ملازمین اور سرمایہ کاروں کے لیے طویل مدتی قدر پیدا کر رہے ہیں۔