وزیراعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر سعودی عرب کے تین روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہوگئے۔

اپنے دورے کے دوران وزیراعظم ریاض میں منعقد ہونے والی نویں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو (FII9) کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور کابینہ کے دیگر سینئر وزرا ء بھی ہوں گے۔

اپنے دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف سعودی قیادت سے ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ بات چیت میں علاقائی و عالمی امورِ دلچسپی بھی شامل ہوں گے۔

دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق ایف آئی آئی 9 کے موقع پر وزیراعظم مختلف ممالک کے رہنماؤں اور بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کریں گے تاکہ پاکستان کے سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کیا جا سکے اور پائیدار ترقی کے لیے شراکت داریوں کو فروغ دیا جا سکے۔

موضوعاتی نشستوں میں عالمی چیلنجز اور مواقع پر بات کی جائے گی جس میں جدت، پائیداری، اقتصادی شمولیت اور عالمی جغرافیائی سیاست میں تبدیلی جیسے اہم موضوعات پر توجہ دی جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف ایف آئی آئی 9 میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے اور پائیدار ترقی، اقتصادی شمولیت، جدت اور عالمی جغرافیائی سیاست میں تبدیلیوں پر ہونے والی بات چیت میں حصہ لیں گے اور ان اہم مسائل پر پاکستان کا موقف پیش کریں گے۔

گزشتہ ماہ، پاکستان اور سعودی عرب نے وزیراعظم شہباز شریف کے ریاض کے سرکاری دورے کے دوران ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کی دعوت پر ایک تاریخی اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ’ پر دستخط کیے۔

معاہدے کے تحت پاکستان یا سعودی عرب پر کسی بھی جارحیت کو دونوں ریاستوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا جس سے مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔