فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے بزنس مین پینل (بی ایم ڈبلیو) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اور ایران کی سرحدی انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے اور دوطرفہ تجارت بڑھانے کی حالیہ یقین دہانیاں محض علامتی ثابت ہوں گی، جب تک دونوں حکومتیں ٹھوس اقدامات کرکے تجارتی رکاوٹوں کو دور نہیں کرتیں۔

دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان حقیقی اقتصادی انضمام بھی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتا اور حقیقی اصلاحات متعارف نہیں کی جاتیں۔

بی ایم پی کے چیئرمین اور ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر میاں انجم نثار نے اتوار کو کہا کہ کاروباری برادری سالوں سے اسی نوعیت کی یقین دہانیاں سنتی آئی ہے، مگر نتائج ہمیشہ نہ ہونے کے برابر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بار بار کے اعلانات اور درجنوں یادداشتوں (ایم او یوز ) کے باوجود پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی امکانات اب بھی بیوروکریٹک تاخیر، بینکاری پابندیوں، پالیسی کی بے یقینی اور سیاسی عزم کی کمی کی وجہ سے محدود ہیں۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کے وزیرِ تجارت جام کمال خان نے تہران کا دورہ کیا اور پاک ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن (جے ای سی) کے 22ویں اجلاس میں دونوں ممالک نے سرحدی منڈیوں کو مضبوط کرنے، کسٹمز تعاون بہتر بنانے، اور تجارت و ٹرانسپورٹ روابط کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

میاں انجم نثار نے اگرچہ اس نئی سفارتی سرگرمی کو سراہا، تاہم ان کا کہناتھاکہ صرف وعدوں اور بیانات سے کوئی عملی نتیجہ حاصل نہیں ہوگا جب تک کہ ان کے ساتھ فوری اور زمینی سطح پر اقدامات نہ کیے جائیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اس وقت تقریباً 3 ارب ڈالر ہے جو ان کی جغرافیائی قربت اور توانائی و زرعی شعبوں میں مشترکہ مفادات کے باوجود حقیقی صلاحیت سے کہیں کم ہے۔

انہوں نے کہا پاکستان اور ایران گزشتہ دو دہائیوں سے وہی وعدے کر رہے ہیں۔ ہر اجلاس، ہر مشترکہ بیان میں تعاون کی بات ہوتی ہے، لیکن اعداد و شمار وہیں کے وہیں ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ نیت کا نہیں بلکہ عملدرآمد کا ہے۔کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر 2025