پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت اور مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے فیری سروس کی تجویز دی گئی ہے جو زائرین اور تاجروں دونوں کیلئے سفر کا ایک کم لاگت ذریعہ فراہم کرے گی۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری نے ایران کے وزیر روڈز اینڈ اربن ڈیولپمنٹ فرزانہ صادق کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران یہ تجویز پیش کی جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران میں ایندھن کی کم قیمتیں کرایوں کو سستا رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں اور دو طرفہ رابطے کو فروغ دے سکتی ہیں۔
جنید انور چوہدری نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اس طرح کی سروس چلانے میں دلچسپی رکھنے والے کسی بھی ایرانی کاروباری شخصیت یا کمپنی کا خیرمقدم کرے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ایسی فیری سروس نہ صرف دو طرفہ تجارت کو فروغ دے گی بلکہ ایران اور عراق جانے والے زائرین کے لیے سفر کا ایک کم لاگت ذریعہ بھی فراہم کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سال 2025 میں تقریباً 60 سے 70 ہزار پاکستانی زائرین نے فضائی راستے سے اربعین میں شرکت کی، فیری سروس ممکنہ طور پر ان اعدادوشمار کو کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔
جنید انور چوہدری نے آئندہ سال سے ایک مرکزی زائرین انتظام پالیسی متعارف کرانے کے منصوبوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ نئے فریم ورک کے تحت، زیادہ حفاظت اور بہتر ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے تمام زائرین کو رجسٹرڈ ٹور آپریٹرز کے ذریعے سفر کرنا لازمی ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران زائرین کی بڑھتی ہوئی آمدورفت سے اہم مالی فوائد حاصل کر سکتا ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی سیاحت اور تجارت کی حمایت کے لیے بنیادی ڈھانچے میں تعاون کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر ایرانی وزیر نے پاکستان کی تجاویز کا خیرمقدم کیا اور اس بات سے اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے بندرگاہیں اہم اقتصادی وسائل ہیں جو خطے کے تجارتی دروازوں کے طور پر کام کر سکتی ہیں۔
فرزانہ صادق نے کہا کہ دونوں ممالک کے بندرگاہیں ہماری معیشتوں کی مالی طاقت ہیں۔ بحری اور ٹرانسپورٹ کنیکٹیویٹی کو بہتر بنا ک ہم خطے میں تجارت اور اقتصادی خوشحالی کے نئے مواقع کھول سکتے ہیں۔
بات چیت کے دوران دونوں فریقوں نے خطے میں رابطوں کو بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی تعلقات کو فروغ دیا جا سکے۔ وزراء نے بحری تجارت کو آسان بنانے، بندرگاہی انفرااسٹرکچر کو فروغ دینے اور سمندر، زمین اور ریلوے کے راستوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان لاجسٹک روابط کو بہتر بنانے کے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں فریقوں نے بحری اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کو دہرایا، جو بلیو اکانومی کو فروغ دینے اور پاکستان–ایران تعلقات کو مضبوط کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔