پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پانچ سال کے وقفے کے بعد پہلی براہِ راست پرواز اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے مانچسٹر ایئرپورٹ کے لیے 25 اکتوبر کو روانہ ہوگی ۔
مانچسٹر اور اسلام آباد کے درمیان براہِ راست پروازیں پی آئی اے کی ویب سائٹ یا بکنگ پارٹنرز کے ذریعے بک کی جا سکتی ہیں، جن کے کرایے 633 پاؤنڈ (236,914 روپے) سے شروع ہوتے ہیں۔
ابتدائی طور پر ہفتے میں چار پروازیں چلنے کی توقع ہے، جبکہ برمنگھم اور لندن سے پروازیں اگلے مرحلے میں ڈیمانڈ کے مطابق شروع کی جائیں گی۔
2020 کے بعد پاکستان اور لندن کے شمال میں واقع ہوائی اڈوں کے درمیان کوئی براہِ راست پرواز نہیں تھی، جس کی وجہ سے مسافروں کے لیے سفر کا وقت اور ذاتی اخراجات کافی بڑھ گئے تھے۔
یہ بحالی برطانیہ کے اس فیصلے کے بعد ممکن ہوئی کہ پی آئی اے کو 16 جولائی کو ایئر سیفٹی لسٹ سے ہٹا دیا گیا۔ بزنس ریکارڈر کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق یہ اقدام تکنیکی آڈٹس اور ایئر لائن کے فضائی حفاظتی معیار میں واضح بہتری کی بنیاد پر کیا گیا۔
پائلٹ لائسنسنگ ہوائی جہاز کی دیکھ بھال اور حفاظتی انتظامات کے جامع جائزوں کے بعد یہ ظاہر ہوتا ہے کہ برطانوی فضائی حکام کو پی آئی اے کی بین الاقوامی پرواز کے حفاظتی معیار پر اعتماد ہے۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز ای وی ایم محمد عامر حیات نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ ہے اور اس اہم راستے پر ان ہزاروں مسافروں کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہے جو اس پر انحصار کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اپنے برطانوی شراکت داروں کے ساتھ قریبی کام کرتے ہوئے اس مقام تک پہنچنے کے لیے مسلسل اصلاحات اور معیار پر قائم رہنے کی کوشش کی ہے۔
ہم نے محنت کی ہے ، تاکہ ماضی کے چیلنجز کو درست کیا جا سکے اور ایک مضبوط اور عالمی معیار کے فضائی حفاظتی نظام کی بنیاد رکھی جا سکے۔
پی آئی اے کی برطانیہ واپسی ان کوششوں کا براہِ راست نتیجہ ہے اور ہمارے تجدید شدہ عملی استحکام اور مالی صحت کی واضح نشانی ہے، جو سب کے لیے قابلِ اعتماد اور مناسب خدمات فراہم کرنے کا وعدہ کرتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پانچ سالہ معطلی، جو 2020 میں شروع ہوئی نے پاکستان کے فضائی شعبے میں اصلاحات کے ایک سخت دور کو جنم دیا۔
پاکستان کے ہائی کمشنر برطانیہ ڈاکٹر محمد فیصل نے اس ترقی کے وسیع اثرات پر زور دیتے ہوئے کہا براہِ راست فضائی روابط کی بحالی ہمارے دیرپا دوستانہ تعلقات اور برطانیہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے شراکت داری کی طاقتور علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بے پناہ مواقع فراہم کرے گا، سب سے زیادہ لوگوں اور ان کے خاندانوں کے لیے، ساتھ ہی تجارت، سیاحت، اور ثقافتی تبادلے کے مواقع بھی فراہم کرے گا۔