رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے پیر کو پالیسی ریٹ 11 فیصد کی موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا امکان ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیلاب کے بعد غذائی اشیاء کی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور گزشتہ سال کے کم اثرات مزید شرحِ سود میں کمی کی گنجائش محدود کر رہے ہیں۔

سروے میں شامل تمام 10 تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا اور موجودہ سطح برقرار رکھے گا۔ حالیہ سیلاب کے باعث زرعی اراضی کو شدید نقصان پہنچا جبکہ افغانستان کے ساتھ سرحدی بندش کی وجہ سے ٹماٹر، سیب اور دیگر ضروری غذائی اشیاء کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا جس نے شرحِ سود میں کمی کے امکان کو مزید محدود کر دیا ہے۔

کے ٹریڈ کے ریسرچ ہیڈ فواد بصیر نے کہا کہ ستمبر میں مہنگائی کی بلند شرح جس میں حالیہ سیلاب کے اثرات بھی شامل ہوں گے، امکان ہے کہ ایم پی سی کو پالیسی ریٹ موجودہ سطح پر برقرار رکھنے پر مجبور کرے گی ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اگلی کٹوتی کا امکان مالی سال 2026 کی آخری سہ ماہی (جولائی 2026 سے شروع ہونے والی مدت) میں ہے۔

غذائی مہنگائی اور بنیادی اثرات مستقبل کی صورتحال پر بھاری

11 اکتوبر سے افغانستان کے ساتھ جھڑپوں کے بعد سرحدی بندش کے باعث تجارت متاثر ہوئی اور خوراک کی قلت میں اضافہ ہوا جس سے مہنگائی کے دباؤ میں مزید شدت آئی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے آخری بار ستمبر میں شرحِ سود برقرار رکھی تھی اور خبردار کیا تھا کہ سیلاب مہنگائی کو 5 فیصد تا 7 فیصد کے ہدف سے اوپر لے جاسکتے ہیں۔ پاکستان کی سالانہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 5.6 فیصد ہوگئی جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 2 فیصد زیادہ ہے۔

اگست میں آنے والے سیلاب نے پنجاب کی زرعی زمینوں اور صنعتی علاقوں کو بری طرح متاثر کیا جس کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، 25 لاکھ افراد بے گھر ہوئے اور فصلوں و فیکٹریوں کو شدید نقصان پہنچا۔

آئندہ محتاط مالیاتی پالیسی کا امکان

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شرح سود کو برقرار رکھنے کے لیے مرکزی بینک کے پاس گنجائش موجود ہے کیونکہ رواں سال کے اوائل میں مہنگائی میں کمی آنے کے بعد حقیقی شرح سود اطمینان بخش حد تک مثبت ہیں۔

المیزان انویسٹمنٹس کی امرین سورانی نے کہا کہ اگرچہ سیلاب کے خطرات میں کمی اور عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی نے قریبی مدت کی مہنگائی کی صورتحال بہتر کی ہے، تاہم گزشتہ سال کے لو بیس کے باعث ماہانہ مہنگائی کے اعدادوشمار میں اضافہ متوقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ مرکزی بینک حقیقی شرحِ سود کا مارجن تقریباً 300 بیسس پوائنٹس برقرار رکھنے کو ترجیح دیتا ہے، اس لیے شرحِ سود میں کمی کی گنجائش بہت کم ہے۔

مرکزی بینک جون 2024 سے اب تک شرحِ سود میں مجموعی طور پر 1,100 بیسس پوائنٹس کمی کر چکا ہے۔ جون 2024 میں شرحِ سود 22 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھی، جب مہنگائی گزشتہ سال 40 فیصد کے قریب پہنچ گئی تھی۔ آخری 100 بیسس پوائنٹس کی کمی مئی میں کی گئی تھی، جس کے بعد توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث جون، جولائی اور ستمبر میں شرحِ سود کو برقرار رکھا گیا۔