پاکستان بحیرہ عرب میں خطرے سے دوچار شارک کی اقسام کے تحفظ کے لیے قومی ایکشن پلان تیار کرنے جا رہا ہے۔ یہ اعلان وزارتِ بحری امور نے ہفتے کے روز کیا۔ یہ منصوبہ سمندری وسائل کے پائیدار انتظام اور عالمی ماحولیاتی معیار کے مطابق پاکستان کے عزم کا اہم حصہ ہے۔
وزارت کے مطابق وفاقی حکومت اس قومی پلان کے لیے سندھ اور بلوچستان سمیت متعلقہ صوبائی حکومتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرے گی۔
وزیرِ بحری امور محمد جنید انور چودھری کے مطابق ممنوعہ شارک ریکوئم، ہیمرہیڈ، تھریشر، میکرل اور وہیل شارک کا شکار نہ صرف سمندری حیات کی اقسام کی کثرت کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ پاکستان کی بین الاقوامی ماحولیاتی ذمہ داریوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پائیدار سمندری طریقہ کار کو فروغ دینے اور عالمی معیارات پورے کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بحیرہ عرب کی ہجرت کرنے والی شارک کی ایک قسم باسکنگ شارک کو انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) کی ریڈ لسٹ میں خطرناک اقسام میں شامل کیا گیا ہے۔
یہ نوع انسان کے شکار جیسے ماہی گیری کے جالوں میں پھنسنے اور کشتیوں کے ٹکرانے کے باعث خاص طور پر متاثر ہے، جس کی وجہ سے اس کی افزائش سست اور نسل نایاب ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کے سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے فوری اور منصوبہ بند اقدامات ضروری ہیں۔ غیر پائیدار ماہی گیری کے طریقے نہ صرف ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ پاکستان کی سمندری خوراک کی تجارت اور بین الاقوامی ساکھ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ خوراک و زراعت کی تنظیم (ایف اے او) کے تحت شارک کے تحفظ اور انتظام کے لیے بین الاقوامی ایکشن پلان (آئی پی او اے شارکس) میں قوموں کو اپنی قومی پالیسیاں بنانے، ضیاع کم کرنے اور پائیدار ماہی گیری کو فروغ دینے کی ترغیب دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سمندری وسائل کا ذمہ دارانہ انتظام اولین ترجیح ہونا چاہیے اور کمزور و ممنوعہ شارک کی اقسام کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزارت صوبوں سے ممنوعہ اور کمزور شارک کی اقسام کے تحفظ کے موجودہ معیارات، نگرانی اور نفاذ کے طریقہ کار پر تفصیلی رائے لے گی ، تاکہ غیر قانونی شکار کو روکا اور قوانین کی پابندی یقینی بنائی جا سکے۔
وزیر نے وفاقی اور صوبائی سطح پر مشترکہ کارروائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بہتر نگرانی، نفاذ اور عوامی آگاہی کو شارک کی نسلوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا۔
انہوں نے صوبائی ماہی گیری کے محکموں پر روز دیا کہ وہ ماہی گیروں اور دیگر متعلقہ افراد کے لیے آگاہی اور تربیتی پروگراموں کا انعقاد کرکے معلومات فراہم کریں، جن میں شارک کی اقسام کی شناخت اور حفاظتی قوانین کی پیروی شامل ہو۔
وزیر نے شارک کے غیر ارادی شکار اور لینڈنگ کی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز اور پالیسیوں کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت پر زور دیا ، تاکہ ڈیٹا کی درستگی اور شفافیت میں اضافہ ہو۔
محمد جنید انور نے سمندری ماہی گیری کے محکمے کو ہدایت دی کہ وہ سندھ میرین اینڈ کوسٹل فشریز ڈیولپمنٹ آفس، بلوچستان فشریز ڈیپارٹمنٹ، کوئٹہ اور کورنگی فش ہاربر اتھارٹیز اور متعلقہ لائیو اسٹاک و فشریز محکموں کے ساتھ مشاورت شروع کرے۔
وزیر نے مزید کہا کہ یہ مشاورت شارک کی افزائش نسل اور تحفظ کے لیے مربوط حکمت عملی مرتب کرنے میں مدد فراہم کرے گی، ساتھ ہی پاکستان کی ماہی گیری کی صنعت کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالے گی۔
حکومت پاکستان نے حال ہی میں سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔گزشتہ ہفتے وزارتِ بحری امور نے خطرے سے دوچار سمندری کچھوؤں کے تحفظ کے لیے 90 ملین روپے کا منصوبہ بھی شروع کیا تھا، جس کا مقصد جھینگے کی ماہی گیری کے دوران حفاظت اور پاکستان کی سمندری حیاتیات کی تجارت کو فروغ دینا ہے۔
وزارت نے پاکستان میری ٹائم انویسٹمنٹ کانفرنس 2025 کے انعقاد کا بھی اعلان کیا جس کا مقصد سمندری شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع کو پیش کرنا ہے۔